پہلوان کریسی بمقابلہ بیورو کریسی

آمریت میں بادشاہ کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں جمہوریت میں وزیراعظم کے بعد ڈپٹی کمشنر کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں سیاست دان سے پوچھا جائے کہ وہ بادشاہ بننا پسند کرے گا یا ڈپٹی کمشنر تو سیاست دان عقلمندی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے بھی ڈپٹی کمشنر بنے گا حالانکہ ممبر صوبائی اسمبلی بننا آسان ہے ڈپٹی کمشنر بننے کے لئے پبلک سروس کمیشن سے کمیشن اور اجازت نامہ لینا ضروری ہے پبلک سروس کمیشن سے اجازت لینا آسان ہے لیکن اجازت کے بعد امتحان میں کامیاب اور پھر انٹرویو سے گزرنا ایسا ہے جیسے قیامت کے دن گناہ گار پل صراط عبور کرنے کے لئے کسی سے مدد کی بھیک مانگتے ہیں لیکن ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا پبلک سروس کمیشن میں امداد باہمی کے تعاون سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے اب سیاست دانوں نے پہلوانوں کے اکھاڑوں کے ساتھ ٹھیکہ کر لیا ہے اور وہاں بیورو کریسی کے ساتھ کشتی کرنے کے لئے داؤ پیچ سیکھتے ہیں بعض بیورو کریٹ تو ان پہلوانوں کے اکھاڑوں سے بھی ٹھیکہ کر لیتے ہیں کسی نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور کون ہے تو جواب ملا کہ خدا کے بعد بیورو کریٹ سپر طاقت ہیں اسی لئے اب ڈاکٹر انجینئر چھوڑ کر بی اے کے بعد طلباء پی ایم ایس یا سی ایس ایس کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔

 انہیں ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بننا ہمارے ایک دوست نے بڑی کوشش کی کہ وہ سی ایس ایس آفیسر بن جائے اس کو اپنے طلباء کی دعائیں لگ جاتی تھیں اب طلباء کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ وہ 10سال پروفیسر کے بعد مجسٹریٹ 10سال کے لئے ہو گیا ہے مقابلے کے امتحان کا طریقہ 4 سو سال قبل اٹلی اور روم نے نکال تو دیا لیکن اگر ان کومعلوم ہوتا کہ یہ طریقہ اتنا طاقتور ہو جائے گا تو وہ حرامی بچے کی طرح اسے بھی گندے گٹر میں پھینک دیتے لیکن گٹر میں پھینکنے سے معاشرہ گندہ ہو جاتا عام آدمی اور بیورو کریسی میں فرق تو صرف تعلیم کا اور سی ایس ایس کا ہے انہیں انسانیت سے خارج کرنا بھی تو درست نہیں ہے مقابلہ کا امتحان پاس کرنا تو قسمت کی بات ہے لیکن یہ کہنا بھی اعزاز ہے کہ مقابلہ کا امتحان دینا ہے یا تیاری ہو رہی ہے بعض رشتے تو اتنے پر ہی طے ہو جاتے ہیں بیورو کریسی کی اپنی حرکات اور اپنی برکات ہوتی ہیں ان کی حرکات حکومت تر برداشت کرتی ہی ہے۔

 لیکن برکات کو برداشت نہیں کرتی نواز شریف نے احتساب کے ذریعہ اب ان کی برکات کا حساب کتاب لینا شروع کر دیا ہے جیسے کہتے ہیں کہ بیورو کریٹ بیورو کریٹ کو جنم دیتا ہے اور یہ وارثت کسی اور خاندان میں منتقل ہو جائے تو پھر کتے کے کاٹنے کی طرح ناف پر 34 انجکشن لگانے پڑتے ہیں لہٰذا غریب خاندان کے لئے یہ علاقہ ممنوع ہے بیورو کریسی کے اپنے اوصاف ہوتے ہیں جس طرح ٹیچرز کے اوصاف علم والوں کے اوصاف،سیاست دانوں کے اوصاف لیکن یہ لوگ ہوتے با وصف ہیں کیونکہ جتنی کم چولیں یہ مارتے ہیں اوصاف کے حامل افراد نہیں مارتے کسی نے پوچھا کہ ذہین آدمی کون ہوتے ہیں تو جواب ملا بیورو کریٹ لیکن پبلک سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ارسطور اور افلاطون نے بھی ان ذہین افراد کا ذکر اپنے فلسفہ سیاست میں کیا اس نے بھی ذہین افراد کو سیاست دان افواج کے آفسران اور بیورو کریٹ کو ٹھہرایا افلاطون خود بیورو کریٹ تو نہ بن سکا البتہ ان کے لئے تجویز کرتا بنا۔

مقابلہ کے امتحان کے معیارات مقرر کرتے وقت حکومت نے پہلوانوں سے مشورے لئے ہوتے ہیں نصاب بھی پہلوانوں نے داؤ پیچ کے ذریعہ ترتیب دیا ہو تا ہے پہلوانوں کے اس اکھاڑے میں کشتی میں ہیر پھیر کے کلیے بھی آزمائے جاتے ہیں ہمیں بھی بیورو کریٹ بننے کا بہت شوق ہے ہم نے اور بھی بہت شوق پالے ہیں لیکن اپنے تمام ذوق کو بد ذوق کرنے کے بعد یہ ذوق پورا کر رہے ہیں مقابلہ کے امتحانات میں کتنے فیصد دھاندلیا ہوتی ہیں اور ان دھاندلیوں کے طریقے کیا ہیں ان طریقوں کے لئے سودے بازی کے بھی طریقے آزمائے جاتے ہیں جہاں پورا معاشرہ رشوت اور سفارش کی لپیٹ میں آگیا ہے وہاں پی ایس سی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا پنجاب پبلک سروس کمیشن اور فیڈرل کمیشن کے زیر اہتمام امتحانات پر سے بھی اب اعتماد اٹھ گیا ہے کیونکہ 30فیصد سفارشات چلتی ہیں فیڈرل اور پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ایسے گروپ متحرک ہیں جو یہ کام ایجنٹ حضرات کے ذریعہ کرتے ہیں حکومت بھی باخبر ہے لیکن ایسے ادارے جہاں صرف غریب اپنی قابلیت اور محنت سے کوئی مقام یا سروس حاصل کر سکتا تھا اب انصاف کی کرن اس کے لئے وہاں سے بھی ختم ہو گئی ہے پرچوں کا پتہ چل جاتا ہے کہ پرچے کہاں ہیں؟پھر وہاں سے نمبر لگوائے جاتے ہیں ہر پو سٹ کے ریٹ مقرر ہیں اب یہ ادارے جو صدر اور گورنر کے انڈر ہیں پہلوانوں کے اکھاڑے بن گئے ہیں بات ہو رہی تھی بیورو کریسی کی تو اصل میں بیورو کریٹ یہاں سے بن کر ہی نکلتے ہیں انٹرویو کے لئے آسامی کے مطابق ریٹ لسٹیں لگا رکھی ہیں۔

بیورو کریٹ میں ایک خوبی جو ہمیں بہت پسند ہے کہ غریب افراد کو اپنے قریب پھڑ کنے نہیں دیتے اور غریبوں کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ۔

دوسرے ممالک کی بیورو کریسی میں ہو سکتا ہے کہ کچھ فرق ہو لیکن ایسا ناممکن ہے کیونکہ جہاں یہ اتنے سارے ہوتے ہیں وہاں ان میں اختلاف بھی مشکل سے ہوتا ہے ثقافت کی روایات ایک جیسی ہوتی ہیں پھر یہ روایات کے پکے ہوتے ہیں اگر کسی نے بیورو کریٹ بننا ہوتو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ شادی کر لے یا سابقہ بیوی کو طلاق دے دے کیونکہ شادی کرنے سے ایک تو شادی شدہ ہو جاتا ہے اور دوسرا بیورو کریٹ لہٰذا ایک تیر سے دو شکار ہو جاتے ہیں یا پھر اپنے خیالات میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے تو پھر وہ پہلوان بننے کے بعد اس صف میں کھڑا ہو جاتا ہے البتہ ہمیں اگر بیورو کریٹ بننے کا شوق ہوتا تو ہم ضرور کسی نجومی سے رابطہ کرتے یا شادی کرنے کی سوچتے بیورو کریسی اور پہلوان کریسی میں فرق نہیں البتہ دونوں کا مطالعہ ضروری ہے۔

حکومتوں کی تبدیلیاں اور عمران خان کی تبدیلی میں بھی بیورو کریٹ اپنی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ریاست،عدلیہ،سیاست اور پارلیمنٹ کے علاوہ مضبوط طبقہ بیورو کریٹ کا ہے ۔جو حکومتوں کی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن خود 60سال کی عمر کے بعد تبدیلی یعنی ریٹائرمنٹ کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ورنہ اس سے قبل ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *