سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس کیوں جاری کیا

اسلام آباد (ملتان ٹی وی ایچ ڈی ۔12 اکتوبر2020ء) سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو نوٹس جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جائیداد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کنونشن سنٹر میں ہونے والے سیاسی اجتماع میں بیٹھے رہے۔ایڈوکیٹ جنرل عدالت پیش نہیں ہوئے،ایڈوکیٹ جنر ل کسی ایک گروپ یا جماعت کا نہیں ہوتا۔

وزیراعظم ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیوں کر رہے ہیں؟۔سپریم کورٹ نے وکلاء کی تقریب میں شرکت پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا

وزیراعظم عمران خان کو بھی وکلاء کی تقریب میں شرکت پر سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے مخصوص سیاسی جماعت کے ونگ کی تقریب میں شرکت پر نوٹس جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ معاملہ از خود نوٹس کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کوبھجوا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان پورے ملک کے وزیراعظم ہوتے ہیں،وزیراعظم کسی جماعت یا گروپ کے ساتھ خود کو نہیں جوڑ سکتے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی معاملے پر معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ وزیراعظم ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیوں کر رہے ہیں۔عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں وزیراعظم نے تقریب میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 9 اکتوبر کو لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار میں شرکت کی تھی۔

جمعہ کو انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہانون کی بالادستی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، مسلمان معاشرہ ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی مثالی بنا۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں بتائیں کہ وہ کیا وجہ تھی جس کی وجہ سے اپنے دور کی سپرپاورز مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست سے دوچار ہوئیں اور مسلمان دنیا کی عظیم قوم بن گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حضور اکرم سے بڑی ہستی دنیا میں کوئی نہیں آئی، ہمیں اپنے نوجوانوں کو اسلاف کی اقدار اور سنہری اصولوں کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے، یہ پاکستان میں ایک فیصلہ کن وقت ہے اور یہ جو سارے بے روزگار سیاستدان ا کٹھے ہو گئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی بالادستی کو نہیں مانتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں اور کسی کو جوابدہ نہیں ہیں، ہمیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا اور اگر کوئی ہاتھ لگائے گا تو وہ اسے انتقامی کارروائی کا نام دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *