کون تھا الفارابی

ابو نصر محمد ابن تارخان(Tarkhan) ابن اوازالاگ (Awazalagh) 10ویں صدی کے وسط میں حیات تھے۔وہ ایک عربی فلاسفر اور منطق دان تھے۔جو عربی مواد میں ابو نصریا”دوسرے استاد“(ارسطو کے بعد) کے نام سے جانے جاتے تھے اور لاطینی زبان میں الفرابیس (Alpharabius) کے نام سے جانے جاتے تھے ۔انہوں نے ڈانسز اوکسونیا (Trans oxonia)․․․․(مغربی ترکستان) میں جنم لیا تھا ۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ترک نسل سے تھے ۔انہوں نے نسطورین(Nestorian) عیسائی یوحنا ابن حیان سے ہاران(HARRAN) یا بغداد میں منطق کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ان کے عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کے ساتھ دانشورانہ روابط استوار تھے،اور اس طرح انہیں ایک اور نسطورین کے ساتھ کام کرنے کا موقع آیا․․․ارسطو کے کام کا ترجمہ پیش کرنے والا اور تبصرہ نگار․․․․․ابو بشر مٹا ابن یونس(وفات 940بعد از مسیح) اور اس کا مشہور و مصروف پیروکار جیکوبائٹ(Jacobite) کی سچیئن مترجم․․․․․․فلاسفر․․․․․اور علم دین کا ماہر یحییٰ ابن عدل (وفات 972بعد از مسیح) تھا۔

عرب سوانح نگاروں نے 100 سے زائد کام الفارابی کے نام کے ساتھ منسوب کیے ہیں۔اگرچہ ان میں سے بہت سے کام حقیقت میں انہوں نے تحریر نہ کیے تھے۔

الفارابی ان خیالات کا مالک تھا کہ فلسفہ ہر جگہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور یہ کہ اس نے ایک نیا گھر تلاش کر لیا ہے اور نئی زندگی پائی ہے اور اس کا یہ گھر اور یہ زندگی اسلامی دنیا میں پائی جاتی ہے۔

الفارابی نے ارسطو اور دیگر یونانی لکھاریوں کے کاموں پر تبصرے تحریر کیے تھے۔الفارابی ایک ایسے سیاسی نظام کا حامی تھا جسے وہ ”نیکی اور پارسائی“ کا عنوان دیتا تھا ،اور اس کے خیال میں اس کے حکمران کے لئے ایک فلسفی ہونا ضروری تھا، اور ایک نیکی اور پارسائی کی حامل سیاسی حکومت کے حصول کے لئے اس کے خیال میں فلاسفر حکمران کے پاس عملی اختیارات ہونے چاہئیں تاکہ وہ ان شہریوں کی اکثریت کی رہنمائی سر انجام دے سکے اور انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کر سکے،جو فلسفیانہ سمجھ بوجھ کے مالک نہ ہوں۔

در حقیقت اسے غیر فلسفیانہ اکثریت کو فلسفے کی زبان میں مخاطب کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

الفارابی کا سیاسی فلسفہ جامع․․․․مفصل اور لطیف ہے ۔مثال کے طور پر اس میں نیکی اور پارسائی سے عاری ریاستوں کی وجود پذیری پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔جن کی اکثریت کو وہ ناخواندہ․․․․لاعلم اور جاہل قرار دیتا ہے کیونکہ ان کی سر براہی ایسے حکمران سر انجام دے رہے ہیں جو خوشی کی حقیقی نوعیت سے لاعلم اور نابلد ہیں ۔

الفارابی محض نیکی اور پارسائی کے حامل”شہر“کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ ایک ایسی قوم کی بات کرتا ہے جو نیکی اور پارسائی کے حامل”شہروں“ پر مشتمل ہو اور ایک ایسی دنیا کی بات کرتا ہے،جو نیکی اور پارسائی کی حاصل اقوام پر مشتمل ہو الفارابی نے منطق․․․․مابعد الطبیات․․․․اور سیاسی تھیوری کی جو بنیادی میں استوار کی تھی ان بنیادوں پر اس کے نامور جانشین ابن سینا نے فلسفیانہ نظام کو تعمیر کیا تھا۔

کامل ریاست کا نظریہ

الفارابی نے عربی زبان میں کئی ایک فلسفیانہ کتب تحریر کی تھیں اور اس کے علاوہ موسیقی پر بے شمار مقالے بھی تحریر کیے تھے۔مذہب کے بارے میں اس کے خیالات کی عکاسی کرنے والا دلچسپ مواد فی مبادی (f1 Mabadi) اور عبدالمدینہ الفدیلا (Al-Madinah Al-Fadilah) ہیں اور ان کا ترجمہ رچرڈ والزن نے پیش کیا ہے اور اس کو ”کامل ریاست کا الفارابی کا نظریہ کا عنوان دیا ہے۔

الفارابی کامل شہری ریاست اور کامل قوم(امہ)اور کامل عالمی ریاست پر خاص نقطہ نظر سے غور کرتا ہے۔

وہ سیاسی ملاپ کی بد عنوانی کو تین درجوں میں درجہ بند کرتا ہے۔جاہل شہر․․․گناہ گار شہر․․․․اور غلط پیغام کے حامل شہر اور ہر ایک شہر اپنے اندر کئی مختلف اقسام کا حامل ہے۔جاہل شہروں میں یہ قدر مشترک ہوتی ہے کہ وہ انسانیت کی حقیقی نوعیت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

کائنات میں اس کے مقام کا ادراک کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔الفارابی جاہل شہروں کی درج ذیل اقسام کی نشاندہی کرتا ہے۔

(1)نا گزیر شہر جن کا مقصد زیادہ معاش کی تلاش ہوتا ہے۔
(2) بد نام شہر جو دولت جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔
(3) ادنیٰ شہر جو محض شہوانی تسکین کے لئے وجود پذیر ہوتے ہیں۔
(4) جمہوری شہر جن کا مقصد عزت اور شہرت کا حصول ہوتا ہے۔
(5) ظالم اور جابر شہر جن کا مقصد طاقت اور دوسروں پر غلبے کا حصول ہوتا ہے۔
(6) جمہوری شہر جن کا واحد واضح مقصد نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک شہری بے لگام ہوتا ہے اور وہ جو کچھ بہتر سمجھتا ہے وہی کچھ کرتاہے۔

گناہ گار اور غلط پیغام کے حامل شہر وہ شہر ہیں ،جو اب کسی قسم کے علم کے حامل ہیں جو انسانیت کے بارے میں ہے یا پہلے کبھی ایسے علم کے حامل تھے لیکن وہ اس علم کی پیروی سر انجام دینے سے قاصر رہے۔

گناہ گار شہر وہ ہیں جہاں پر نیکی اور پارسائی کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ غلط پیغام کے حامل شہر وہ ہیں جہاں کے لیڈر حقیقی علم کے حامل ہیں جس کی پیروی اس شہر کو کرنی چاہیے لیکن وہ شہریوں کو غلط تصورات پیش کرتے ہوئے دھوکہ دیتے ہیں۔

اگر چہ بد عنوان ریاستوں کی درج بالا درجہ بندی کا مقصد فلاسفروں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ نیک اور پارسا نظام حکومت کے نیک اور پارسا لیڈر بن سکیں لیکن ان کے سیاسی فلسفے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ لوگ خوشی سے ہمکنار ہوں۔

(نوٹ:۔واضح رہے کہ یہ وہ موسیقی نہیں جو ہم دنیا دار سنتے ہیں بلکہ وہ اس موسیقی میں خدا کی آواز سنا کرتے تھے۔)
موسیقی کے میدان میں
الفارابی نے موسیقی کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی تھی۔اس کے ثبوت میں درج ذیل حکایت پیش کی جا سکتی ہے۔
”حج بیت اللہ ادا کرنے کے بعد مکہ شریف سے واپسی کے
دوران انہوں نے ایک اجنبی کے ذریعے اپنے آپ کو شام کے
سلطان سیف الداولہ کے دربار میں متعارف کروایا۔وہاں پر
موسیقاروں کی ایک جماعت اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی اور
انہوں نے بھی اس جماعت میں شرکت کی۔شہزادے نے ان کی
مہارتوں اور فن کی تعریف سر انجام دی اور اس خواہش کا بھی اظہار
کیا کہ وہ کوئی چیز پیش کریں جو ان کی اپنی ہو۔الفارابی نے اپنی
ایک دھن پیش کی اور پارٹی کو بینڈ میں منقسم کر دیا۔پہلی پیش کش
نے درباریوں کو زبردست ہنسی سے دو چار کیا۔اگلی پیش کش نے
ان کو خوب رلایا اور وہ آنسو بہانے لگے اور آخری پیش کش پر حتیٰ
کہ فن کا مظاہرہ کرنے والے بھی نیند سے ہم آغوش ہو گئے۔“
1638ء بعد از مسیح میں ترکوں نے جب بغداد پر دوبارہ قبضہ کیا اور وسیع پیمانے پر قتل عام کا آغاز ہوا اور تیس ہزار ایرانی لقمہ اجل بن گئے۔ ایک ایرانی موسیقار جس کا نام شاہ قلی تھا ۔اسے سلطان مراد کے حضور پیش کیا گیا۔اس نے اس قدر سریلی آواز میں گایا اور اس قدر سریلی موسیقی کا مظاہرہ کیا ۔اس نے پہلے فتح کا نغمہ گایا اور اس کے بعد ماتمی راگ الاپاکہ اس موسیقی کی وجہ سے سلطان رحمدلی اور خدا ترسی کی جانب مائل ہوا اور اس نے قتل عام بند کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
عربی موسیقی پر ایرانی اور یونانی موسیقی کا رنگ غالب تھا۔الفارابی نے موسیقی کا ایک آلہ ایجاد کیا تھا جسے ارگن باجا(Organ) کہا جاتا تھا۔ہندوستان میں امیر خسرو14ویں صدی کے شاعر اور صوفی بزرگ․․․انہوں نے ہندوستانی اور ایرانی موسیقی کا حسین امتزاج پیش کیا تھا اور یہ امتزاج مابعد ہندوستانی موسیقی کی نشوونما کا باعث ثابت ہوا۔
مذہبی حلقوں میں صوفیا کرام نے صوتی اور آلات موسیقی کے ذریعے موسیقی دونوں اقسام کو متعارف کروایا تھا اور یہ ان کی روحانی مشقوں کا ایک حصہ تھی۔سماع․․․․․جیسا کہ یہ موسیقی کہلاتی تھی․․․․آغاز میں کچھ مسلمانوں نے اس کی مخالفت سر انجام دی لیکن صوفیا کرام نے اپنی یہ مشق جاری رکھی اور آہستہ آہستہ اسے شرف قبولیت بخشا گیا۔عظیم صوفی شاعر جلال الدین رومی(وفات 1273بعد از مسیح) صوفیا کرام اور عام مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں وہ موسیقی میں خدا کی آواز سنا کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *