صحافی کو دھمکی دینے والے وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کا استعفیٰ منظور

نجی زندگی کے حوالے سے سوال پوچھنے پر صحافی کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے والے امریکی وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین پساکی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان ٹی جے ڈکلو کو ایک ہفتے کے لیے نوکری سے معطل کیا گیا تھا لیکن اب بائیڈن انتظامیہ نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں: صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد جوبائیڈن انتظامیہ کا پہلی مرتبہ ترکی سے رابطہ

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سیاسی امور کی رپورٹر تارا پلمیری نے وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان سے ان کے ایک اور سیاسی رپورٹر الیکسی میک کیمنڈ سے جاری تعلقات کے حوالے سے سوالات پوچھنا شروع کردیے۔

تحریر جاری ہے‎

ان سوالات پر انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 20جنوری کو نئے صدر کی افتتاحی تقریب کے کچھ دیر بعد خاتون صحافی کو مبینہ طور پر فون پر دھمکی دی کہ ‘میں تمہیں تباہ و برباد کردوں گا’۔

رپورٹر ‘وینیٹی فیئر میگزین’ کی نامہ نگار ہیں اور ادارے نے بھی وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کے ناقص رویے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی جے ڈکلو نے توہین آمیز تبصرے کیے اور صحافی کو کہا کہ وہ ان سے حسد کرتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی سیکریٹری جین پساکی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ہفتے کی شام ڈکلو سے بات کرنے کے بعد ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس نے طبی ماہر کو کورونا پر گواہی دینے سے روک دیا

انہوں نے کہا کہ ہم سب سے احترام اور عزت سے پیش آنے کے صدر کے متعین کردہ اصولوں پر روزانہ کی بنیاد پر عمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پساکی نے کہا کہ جمعے کو یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد ڈکلو نے مذکورہ خاتون صحافی سے معافی مانگ لی تھی۔

ڈکلو 2020 کی صدارتی مہم میں جو بائیڈن کے پریس سیکریٹری تھے اور اپنے رویے پر انہوں نے ٹوئٹر پر بھی معافی مانگ لی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی الفاظ اپنے رویے کے بارے میں میرے دکھ، شرمندگی اور افسوس کا اظہار نہیں کرسکتے، میں نے جو زبان استعمال کی وہ کوئی بھی عورت کبھی کسی سے سننا گوارا نہیں کرے گی خصوصاً ایسی حالت میں جب وہ صرف اپنا کام کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ڈکلو نے مزید کہا کہ میری زبان عدم احترام، قابل نفرت اور ناقابل قبول تھی، میں انتہائی شرمندہ ہوں اور میں نے صدر بائیڈن اور اپنے وائٹ ہاؤس کے ساتھیوں کو مایوس کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *