پابندیاں اچھی ہیں یا نہیں

انگریز دو سو سال قبل چھتریاں لے کر چلتے تھے اور یہ رواج صرف عورتوں میں تھا مردوں کے لئے یہ سہولت نہیں تھی اب انگریز میل کو بھی اجازت مل گئی ہے ان کا مذاق نہیں اڑایا جاتا ہے پاکستان میں مردوں پر تو اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے البتہ مردوں پر اور بڑی پابندیاں ہیں جن کی آزادیاں ضروری ہیں مثلاً مردوں پر چار شادیاں کرنے کی پابندی ہے عورت کو یہ پابندی نہیں ہے ہندو عقیدہ میں عورت ایک بار ہی اس پابندی کو برداشت کرتی ہے البتہ انگریز ایسی پابندیوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں اسی لئے وہاں لاپرواہی کے قوانین نہیں بنتے ہیں بھارت کے سیکرٹری خارجہ تو ایک دفعہ پاکستان میں ایسی پابندیوں کو بھی اپنے اوپر لاگو نہ کر سکے مسلمان سیکرٹری خارجہ پاکستان میں نماز کے دوران دعا کے وقت آزادی کشمیر کی آزادی کو آمین کہہ کر لاشعوری طور پر پابندی سے ہٹ گئے پتہ نہیں بھارت نے پھر ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور کیا بد سلوکی کی منو بھائی پر بھی ایسی پابندیاں نہیں ہیں ان کی بیگم بھی انہیں کبھی کبھار منو بھائی کہہ کر سودا سلف بازار سے منگوا لیتی ہیں دنیا میں جینے کی پابندی نہیں ہے قیامت کے بعد جینے کی پابندی ہے کسی شاعر نے کہا ہے۔

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

الیکشن میں ووٹ دینے پر پابندی ہے کیونکہ جو ووٹ نہ دے وہ اُمیدواروں کا ملزم ہوتا ہے جو ووٹ دے وہ مخالف پارٹی کے امیدوار کا جرم دار ہے خیالات پر معاشی پابندی ہے اور سیاست پر سودے بازی کی پابندی کے قوانین موجود ہیں خیالات اور نظریات پر قتل وغارت کا بین ہے امتحانات میں نقل پر پابندی تو نہیں البتہ خاموشی سے نقل کرنے اور خاموشی سے نگرانوں سے حساب کتاب کرنے پر قید ضرور ہے دفعہ 144میں امن وامان کی صورت کو درست رکھنے کے لئے ڈپٹی کمشنر پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے جمہوریت میں مارشل لاء لگوانے پر جرم سیاست لاگو ہوجاتا ہے مارشل لاء کے بعد جمہوریت کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں بے روزگاری پر پابندی کے علاوہ خود کشی پر وجہ بتائے بغیر دوسرے جہاں ہجرت کرنے پر پابندی تو نہیں لیکن جنت میں جانے پر قید اور فرشتوں کی سزا کا قانون پارلیمنٹ لاگو نہیں کرتا ہے فلموں میں سنسر شپ پر نہیں البتہ مسرت شاہین پر ضرور قوانین کا اطلاق ضروری ہوتا ہے یورپ سیکس پابندی سے آزادی ہے لیکن جرائم کی روک تھام پر پابندی پر عمل ضروری ہے پاکستان میں کسی کے پاس رشوت نہ ہو یا سفارش نہ ہوتو اس پر ممبران قومی و صوبائی کی پابندی ضروری ہے شادی شدہ عورت پر دوسرے مرد کو دیکھنے پر قید ہے لیکن مرد جتنی مرضی عورتوں کو دیکھے ان کے ساتھ دوستی اور تعلقات استوار کرے ان پر صرف معاشرہ کی نظروں اور رشتہ داروں کی پابندی ہوتی ہے ہم تو ان پابندیوں پر عمل نہیں کرتے لیکن بچپن میں ان پر غور ضرور کرتے تھے کہ اگر ان پابندیوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو پھر ہمارا انجام کیا ہو گا نوابزادہ نصر اللہ پر حقہ پینے کی پابندی نہیں اور نہ پارٹیاں تبدیل کرنے کی ،ایسی پابندیوں کو برداشت کرنا بہت مشکل نہیں ہے خیالات پر پابندی سے معاشرہ بد دلی کا شکار ہو جاتا ہے اور سیکس پر پابندی سے نفسیات کا مریض انسان بن جاتا ہے یہاں سیاست دانوں پر پابندیوں سے دہشت گردی پر پابندی نہیں رہتی ہے صحافت پر،قلم پر قید و بند کی سعوبتیں برداشت کرنے سے قلم کی سیاہی ختم ہونے سے بے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے غربت پر انسانیت کی تذلیل کی پابندی ہے سگریٹ نوشی پر روک تھام کے لئے مک مکاؤ کی مداخلت ضروری ہے ضیاء الحق اور اس کی کابینہ نے اسلامی قوانین کے نفاد پر پابندی لگائی تو عوام 11 سال صوم و صلوة کے پابند ہو گئے علماء پر فرقہ واریت کو پھیلانے پر کیچڑا چھالنے کی پابندی نہیں لیکن کبھی کبھار زبان بندی ہو جاتی ہے حشر نشر ہو جاتا ہے لیکن یہاں کھلی چھٹی ہے اور موج مستی ہے غلام حیدر وائیں نے بھی بھرتی پر سختی سے پابندی لگائی لیکن ان کی رحلت کے بعد ایک سوائے ایس آئی روسٹ کرنے کا کھاتہ نکل آیا سردار عارف نکئی پر تو بارہ بجے کام کرنے کی پابندی تھی ایک پابندی کی وجہ سے اور اس پابندی کا مظاہرہ ایک دفعہ صدر لغاری کی تقریب میں کر بھی گئے بہر حال ان کی یہ مجبوری سکھوں کے خاندان سے تعلق کا سبب بھی تھی لہٰذا ان کی پابندیوں کو نظر انداز کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے اداکاروں پر ٹیکس نہ دینے کی بندش ہے ان پر خوبصورتی اور حسن اخلاق کی پابندی عوام نے لگائی ہوتی ہے پولیس پر رشوت دینے اور لینے کے بعد اقبال جرم کی سزا نہیں ہے البتہ عوام کو سزا دینے کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔

اس لئے پولیس کی دوستی بھی اچھی اور دشمنی بھی اچھی نہیں ہوتی ہے لیڈران اور ایجنسیوں کی پابندی فرض عین عبادت ہے سیاسی پارٹیوں کا الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ امریکہ یا خفیہ ایجنسیاں کرتی ہیں پابندیوں کی قسمیں بھی فصلوں کی قسموں کی طرح ہیں ان میں بہار،موسم خزاں کی پابندی بھی ہے عاشقوں کے لئے کوئی پابندی نہیں ہوتی کیونکہ وہ پابندی سے آزاد ہے صرف اس وصل یا ملاقات ہوتی ہے کسی نے عاشق سے پوچھا کہ خوشی یا غمی کب ہوتی ہے تو اس نے کہا کہ نہ غمی ہوتی ہے نہ خوشی ہوتی ہے محبت میں سب جائز ہے جس طرح سیاست میں سب جائز ہے البتہ ملک کے قوانین کی پابندی اخلاقی اور قانونی جرم ہے اور ایسے جرائم اختیار کرنے سے وقار اور عزت میں اضافہ ہوتا ہے پابندی بندش ہوتی ہے اور بندش دینے سے گردن میں لچک پیدا ہو جاتی ہے ایران میں تو یہ پابندی اتنی سخت ہے کہ ایرانی عورتیں پاکستان کی سرحد پر برقعے اتار پھینکتی ہیں ہمیں تو پابندی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو سے جلسہ عام میں کسی نے کوئی سوال کیا تو انہوں نے اتنی پابندی کی کہ اپنا کوٹ اتار کر عوام میں پھینک دیا تمام اسے پکڑنے لگے تو وہ پھٹ گیا بھٹو نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل ایسے ہی ہو گا مولانا کوثر نیازی سے کسی نے پی پی کا منشور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جو شریف ہو اس کے گلے پڑجاؤ جو تمہارے گلے پڑ جائے اس سے معافی مانگ لو معافی مانگنے کی پابندی بھی پی پی نے بتائی بہر حال پابندی پر پابندی لگانا ضروری ہے پھر زندگی پابند ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *