ٹرمپ ایسا کیا کھا کہ انتخابی مہم کے میدان سے فرارہو گے

اپنے حریف جوبائیڈن کے ساتھ مکالمہ کرنے سے انکار کر دیا

لاہور(ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔ 09 اکتوبر2020ء) امریکی صدارتی انتخابات اس وقت دنیا بھر کے میڈیااور عوام کا مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں۔کورونا وبا کے دنوں میں جہاں بہت ساری پابندیاں اور سوشل ڈسٹنسنگ کا چلن عام ہے ایسے ماحول میں امریکی انتخابات ہونا کسی دلچسپی سے کم نہیں۔امریکہ بھر کی ریاستوںمیں صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں جوبائیڈن میدان میں اترے ہوئے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کواچھا خاصا ٹف ٹائم دے رکھا ہے۔

اگر اس بار بھی ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی سیاست کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کر دیں گے۔تاہم انتخابی مہم کے دوران جیسا کہ امریکی سیاست کا اصول ہے دونوں حریف عوام کے سامنے آ کر ایک ہال میں تقریر کرتے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرتے اور عوام کے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔

اس برس بھی اس مہم کا پہلا مکالمہ گزشتہ روز ہوا تھا جہاں جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے کو خوب رگیدا۔

جبکہ اس پہلے مکالمے کے بعد دو اور مکالمے ہونا باقی تھے جن میں انہوں نے عوام کے مزید تلخ سوالوں کا جواب دینااور ایک دوسرے کی پالیسیوں کو ہدف بنانا تھا۔مگر دوسرے مکالمے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے راہ فرار اختیار کی اور کہا کہ میں اس طرح اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتااور اپنے حریف کے سات مزید کوئی مکالمہ نہیں کروں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہر طرف سے تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں ۔

مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس روایتی سیاست کے اصول کو توڑنے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔کیونکہ ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ اس طرح سے انتخابی مکالمے سے انکار ڈونڈ ٹرمپ  کے سیاسی  کیرئرپر اثر انداز ہو سکتا  ہے کیونکہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو ہونے والے کورونا کے حوالے سے بھی لوگ شک و شبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *