دھوپ کا کورونا سے کیا تعلق

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھوپ سے کورونا کا خاتمہ سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 05 اپریل 2021)  غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ہونے والی اس تحقیق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ سے کورونا کے خاتمے کا دعویٰ درست ثابت ہوا اور حیران کن طور پر جو اندازے ماضی میں لگائے گئے تھے ان سے 8 گنا زیادہ تیز رفتاری سے وائرس کی موت ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق کورونا کا دھوپ سے اس طرح خاتمہ کیوں ہوتا ہے، اس بارے میں فی الحال ہم کچھ نہیں جانتے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 2020 میں دو تحقیقی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ دھوپ میں شامل بالائے بنفشی (الٹراوائیلٹ) شعاعیں 10 سے 20 منٹ میں کورونا وائرس کا خاتمہ کردیتی ہیں۔

تازہ تحقیق میں مذکورہ بالا دونوں رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد انکشاف کیا گیا کہ الٹراوائیلٹ شعاعوں سے کورونا وائرس کا خاتمہ سابقہ اندازوں کے مقابلے میں آٹھ گنا تیزی سے ہوا۔ جبکہ انسانی لعاب دہن میں بھی وائرس کے خاتمے کا اندازہ ماضی کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکا کے دیگر سائنس دانوں نے حالیہ دنوں اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ کرونا وائرس کھلی فضا میں کئی گھنٹوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح ہوا سے آلودہ ہونے والی کسی بھی شے پر دو تین روز تک موجود رہتا ہے۔

ماہرین نے تحقیق کے دوران متاثرہ افراد کے زیر استعمال نیبولائزر سے نمونے حاصل کر کے انہیں فضا میں چھوڑا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ تین گھنٹے تک وائرس ہوا میں موجود رہا اور پھر خود ختم ہوگیا۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *