ہم جلد واپس آئیں گے! قیدیوں کا جیل سے فرار ہوتے ہوئے وعدہ

اطالوی میڈیا نے قیدیوں کے فرار کا انوکھا کیس رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  دو قیدی ربیبیا جیل سے فرار ہوتے ہوئے ایک خط چھوڑ گئے ہیں، جس میں انہوں نے اپنےفرار کی وجہ بتائی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی واپس آ جائیں گے۔
2 جون کی رات کو  روم کی ربیبیا جیل میں قید کاٹنے والے دو کزن 40 سالہ زوکانووک اور 46 سالہ لل احمیٹووک  اپنی کوٹھری کی کھڑکی توڑ کر فرار ہوگئے۔

کوٹھری کی کھڑکی  توڑنے کے بعد انہوں نے ایک پائپ  کی مدد سے نیچے اتر کر  صحن عبور کیا اور پھر وائر کٹر سے دیوار کی خاردار تاریں کاٹ کر باہر نکل گئے۔ اس فرار کی سب سے انوکھی بات اُن کی کوٹھری سے ملنے والا خط ہے۔ اس خط میں دونوں نے وضاحت کی کہ وہ اپنے گھریلو مسئلے کے حل کے لیے جا رہے ہیں اور 15 دن میں واپس آ جائیں گے۔

جیل کے عملے کو لکھے گئے خط میں دونوں قیدیوں نے بتایا کہ انہیں اپنے بچوں کو  اس برے کام سے بچانا ہے، جس میں وہ خود پھنس گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ وہ یہ کام خود ہی کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں کی بیویاں بھی جیل میں بند ہیں۔خط کے اختتام پر دونوں نے لکھا کہ اپنا کام ختم کر کے وہ فوراً واپس آ جائیں گےا ور خود کو عدالتی کاروائی کے لیے پیش  کر دیں گے۔

اطالوی پولیس کی اس خط کی صداقت پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیونکہ یہ فرار ہونے والے قیدیوں کی کوٹھری سے ملا ہے اور اس پر اُن کی انگلیوں کےنشان بھی ہیں۔

تاہم پولیس کو دونوں کے واپسی کے وعدے پر شبہ ہے۔
دونوں قیدیوں کی سزا 2029 کے آخر میں ختم ہوگی۔ دونوں دھوکہ دہی اور چوری شدہ چیزیں خریدنے کے جرم میں سزا کاٹ رہے ہیں۔اگر دونوں  اپنے  وعدے کے مطابق واپس آ جاتے ہیں تو دونوں کو مزید پانچ سال قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔اسی وجہ سے اُن کی رضاکارانہ واپسی مشکل لگتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *