کووڈ ویکسینز کے خلاف گمراہ کن تفصیلات روکنے کیلئے نئے اقدامات

ٹوئٹر نے کووڈ 19 ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات شیئر کرنے پر ٹوئٹس پر لیبلز لگانے کا اعلان کیا ہے۔

  ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 03 مارچ 2021)  ان لیبلز میں ایسے قابل اعتبار اداروں کے لنکس بھی شامل کیے جائیں گے جہاں سے ویکسینز کے حوالے سے مستند تفصیلات مل سکیں گی۔

ٹوئٹر کی جانب سے لیبلز کے ساتھ ایک نئے 5 اسٹرائیک سسٹم کا نفاذ بھی کیا جائے گا جس کے تحت بار بار اصولوں کی خلاف ورزی پر اکاؤنٹس کو لاک اور مستقل بنیادوں پر معطل کیا جاسکے گا۔

یہ نئے لیبلز فیس بک کے اینٹی مس انفارمیشن بینرز سے ملتے جلتے ہوں گے۔

جن ٹوئٹس پر یہ لیبل موجود ہوگا ان کے نیچے ٹیکسٹ میں مستند ذرائع کی تفصیلات پر مبنی لنکس یا ٹوئٹر کے اصول و ضوابط کو درج کیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ان لیبلز کا اطلاق انسانوں اور خودکار ریویو سسٹمز کے امتزاج سے کیا جائے گا اور سب سے پہلے انگلش زبان کے مواد کو پروگرام کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے کووڈ 19 کی گمراہ کن تفصیلات کے حوالے سے پالیسی موجود ہے جس کے تحت مخصوص کیٹیگریز کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

ان اہداف میں وائرس کی بنیاد کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات، علاج اور احتیاطی اقدامات کی افادیت کے بارے میں جھوٹی خبریں، وائرس کے پھیلاؤ ، بیماری کے خطرے یا موت کے حوالے سے گمراہ کن تفصٰلات جبکہ اداروں یا طبی عہدیداران کے خلاف گمراہ کن تفصیلات شامل ہیں۔

لیبلز کو کووڈ 19 کی مس انفارمیشن کے حوالے سے نئے اسٹرائیک سسٹم کا بھی حصہ بنایا جائے گا، ایک لیبل ٹوئٹر کو ایک اسٹرائیک کے طور پر گنا جائے گا۔

اگر کمپنی نے تعین کیا کہ یہ تفصیلات کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے خطرناک ہیں اور سازشی خیالات کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے، تو اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ بھی کیا جاسکتا ہے، جس کو 2 اسٹرائیک تصور کیاج ائے گا۔

اس کے بعد ہر اسٹرائیک پر ٹوئٹر کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔

آسان الفاظ میں ایک اسٹرائیک پر نو اکاؤنٹ لیول ایکشن، 2 اسٹرائیک پر 12 گھنٹے تک اکاؤنٹ لاک ہوگا، 3 اسٹرائیک پر 12 گھنٹے کے لیے اکاؤنٹ لاک، 4 اسٹرائیک پر 7 دن کے لیے اکاؤنٹ لاک ہوگا جبکہ 5 یا اس سے زیادہ اسٹرائیکس پر اکاؤنٹس ہمیشہ کے لیے معطل ہوجائے گا۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں Multan TV HD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *