یہ بینک بیلنس ،جیٹ ،گھراور شہرت کچھ بھی میرے کام کا نہیں

مشہور فیشن بلاگرکرسڈا روڈریگز کی بسترِ مرگ پر لکھی آخری غمناک تحریر

لاہور (ملتان ٹی وی ایچ ڈی  ۔ 13 اکتوبر2020ء) ہمارے آس پاس کئی سبق آموز کہانیاں بکھری پڑی ہیں،جنہیں جانتے ہوئے یا پڑھتے ہوئے ہم کچھ لمحوں کے لیے تو ٹھٹھک ضرور جاتے ہیں مگر کچھ پل گزرنے کے بعد ہم دنیا کی رنگینیوں اور اپنے خوابوں کی دنیا میں ایسے گم ہوتے ہیں کہ ان سبھی سبق آموز اور عبرت انگیز تحریروں اور تصویر وںکا رنگ ہم سے اترنے لگتا ہے۔

آئیے آج آپ کو ایسی سبق آموز تحریر پڑھنے کو دیتے ہیں کہ جسے پڑھ کر ایک بار تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور آپ دنیا کی بے ثباتی اور انسان کے فانی ہونے کے اصول کی جانب متوجہ ضرور ہوں گے۔9 ستمبر 2018 کو موذی مرض کینسر کی وجہ سے 40 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والی ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی فیشن بلاگر اور مصنفہ کرسڈا روڈریگز کی بسترِ مرگ پر لکھی گئی تحریر آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے سبق آموز تحریر ہے۔

ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی کرسڈا روڈریگز کا اپنی آخری تحریر میں لکھنا تھا کہ ”اس وقت میرے گھر کے گیراج میں دنیا کی مہنگی ترین گاڑی کھڑی ہے لیکن میں ویل چیئر پر سفر کرنے پر مجبور ہوں، میرے گھر میں ہر قسم اور دنیا کے مشہور برانڈ کے کپڑے اور جوتے ہیں لیکن میں ہسپتال کی جانب سے فراہم کی گئی ایک سطر میں لپٹی ہوئی ہوں،آج میرے بینک کے اکاونٹ میں بے شمار دولت موجود ہے لیکن وہ دولت میرے کسی کام کی نہیں کیونکہ نہ وہ مجھے زندگی دلا سکتی ہے اور نہ ہی صحت، میرا گھر ایک محل کی طرح ہے لیکن میں اس ہسپتال کے بستر پر پڑی ہوئی ہوں، میرے پاس جتنی دولت ہے میں ا سے استعمال کر کے ایک فائیو سٹار ہوٹل سے دوسرے فائیو سٹار ہوٹل میں جا سکتی ہوں، لیکن اب میں صرف ایک لیب سے نکل کر دوسری لیب میں ویل چیئر پر سفر کرتی ہوں،نجی جیٹ پر میں جہاں چاہتی ہوں اڑ سکتی ہوں لیکن اب مجھے اسپتال کے برآمدے میں جانے کے لیے دو افراد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، میرے بالوں کو سجانے کے لیے میرے پاس سات بیوٹیشنز تھیں آج میرے سر پر ایک بال تک نہیں ہے، میرے پاس اتنی دولت ہے کہ میں دنیا بھر کے لذیذ کھانے کھا سکتی ہوں لیکن اب میری خوراک صرف دو گولیاں اور رات کو چند قطرے نمکین پانی ہے،آج یہ گھر ، یہ کار ، یہ جیٹ ، یہ فرنیچر ، بہت سارے بینک اکاونٹس، اتنی عزت اور شہرت کچھ بھی میرے کام کا نہیں ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز مجھے تھوڑی دیر کے لئے بھی راحت نہیں پہنچا سکتی اور نہ ہی ان میں سے کوئی ایک چیز میری زندگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

“فیشن بلاگر اور مصنفہ کرسڈا روڈریگز کا اپنی سبق آموز تحریر کے آخر میں زندگی کی اصل حقیقت بتاتے ہوئے لکھنا تھا کہ ”اصل زندگی دوسروں کی زندگیوں میں سکون کے لمحات پیدا کرنا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا ہے، آخر میں موت کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *