فرانس کی حکومت نے مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کردی

لندن(ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اکتوبر ۔2020ء) فرانس کی حکومت نے عرب ممالک سے اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کردی ہے تاہم فرانسیسی صدر میکرون کے مسلمانوں سے معافی مانگنے کے مطالبے پر پیرس نے خاموشی اختیار کررکھی ہے. کویت سمیت متعدد عرب ممالک کی کاروباری تنظیموں کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے اور سینکڑوں شاپنگ مالزنے رضاکارانہ طور پر بائیکاٹ مہم کا حصہ بنتے ہوئے فرانس کی مصنوعات ہٹا دی ہیں اور فرانس سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے برانڈزکے شلف خالی پڑے ہیں.

فرانس کے ایک استاد کی جانب سے کچھ دن قبل کلاس کے دوران بچوں کو گستاخانہ خاکے دکھانے کی خبر سامنے آنے کے بعد عرب ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا‘فرانسیسی مصنوعات کے خلاف سب سے پہلے کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آیا اور کویت بھر سے فرانسیسی مصنوعات کو اسٹورز سے ہٹایا جا رہا ہے کویت کے ساتھ اردن‘قطر‘لیبیا‘شام‘اردن‘متحدہ عرب امارات کی کئی ریاستوں سمیت سعودی عرب کے درجنوں شاپنگ مالز‘پاکستان ‘بنگلہ دیش اور افریقہ کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے.

فرانس کے قتل ہونے والے استاد نے اپنے مکروہ عمل کو بار بار دہرایا جس پر مبینہ طور پر چیچنیا سے ہجرت کرکے فرانس آباد ہونے والے ایک طالب علم نے استاد کو ہلاک کردیا جس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کی جانب سے طالب علم کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی خبر سامنے آئی تھی. اس واقعہ کے بعد فرانس نے صدر ایمانویل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے اور ان کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی فرانسیسی صدر کا نام ان کے اسلام دشمن اور نسل پرستانہ خیالات کی وجہ سے انتہاپسند سفید فام نسل پرستوں کی عالمی تنظیم سے جوڑا جاتا ہے.

صدر میکرون کے حالیہ بیانات کے بعد بہت سے مسلمان ممالک خاص کر مشرقِ وسطی میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم نے زور پکڑا ہے فرانس کی وزات خارجہ نے ایک طرف فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلانات کو بے بنیاد اور شدت پسند اقلیت کی آوازقراردیا تو دوسری جانب مسلمانوں سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی وزارت خارجہ کا بیان جلتی پر تیل کا کام کرسکتا ہے کیونکہ الفاظ کے چناﺅ میں سفارتی آداب کو مخلوظ خاطر رکھا گیا ہے اور نہ ہی دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات کو ‘وزارت دفاع نے بنیادی طور پر اسی بات کو الفاظ کو تبدیل کرکے دہرانے کی کوشش کی ہے جو کہ فرانسیسی صدر نے استعمال کیئے تھے ان الفاظ کے ساتھ بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل فرانسیسی حکومت کے متکبرانہ روئیے کو ظاہر کررہی ہے.

سوشل میڈیا کروڑوں کی تعداد میں پوسٹ ‘ویڈیوز اور تصاویرمیں کویت، اردن اور قطر سمیت دیگر ممالک کے کاروباری حضرات کو اپنی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹاتے اور ان مصنوعات کو دوبارہ فروخت نہ کرنے کا عزم کرتے دکھایا گیا ہے پاکستان میں بھی گذشتہ 48 گھنٹوں سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے. فرانسیسی صدر نے مذکورہ شخص کی آخری رسومات میں شرکت کرکے اسے فرانس کا ہیرو بھی قرار دیا تھا، جس پر پوری دنیا میں فرانسیسی صدر کے خلاف احتجاج شروع ہوا فرانسیسی صدر کے متنازع بیان پر حکومت پاکستان اور حکومت ترکی نے سخت رد عمل دیا تھا اور ایمانوئیل میکرون کو دماغی معائنہ کرانے کے مشورے دیے گئے تھے سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر اور دیگر مسلم ممالک میں بھی فرانس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنے اور عوام نے فرانسیسی صدر پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا.

عرب ممالک میں اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی فرانسیسی حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے اور اس نے مشرق وسطی کے ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کردی ہے جہاں ایک طرف فرانسیسی حکومت نے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، وہیں دنیا بھر کے مسلم ممالک سمیت دیگر مسلم آبادی والے ممالک کے عوام کی جانب سے فرانسس کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم میں تیزی دیکھی جارہی ہے دنیا بھر میں چلنے والی فرانس مخالف سوشل میڈیا مہم میں فرانسیسی صدر اور حکومت سے گستاخانہ خاکوںپر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *