خودکشی

خودکشی اور خود کشتی میں جو فرق ہمیں نظر آتا ہے وہ واضح ہے خودکشی کے لئے تربیت یافتہ منصوبہ بندی ہونا چاہئے اور خود کشتی کے لئے پہلوانوں سے گھر پر ملاقات کرنا ضروری ہے خودکشی کی مقدار و تعداد میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب خودی کا احساس پیدا ہو جائے اسی لئے علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے خودی کے لئے سہولیات فراہم کر دی ہیں خودکشی میں اضافہ کی وجوہات تو عام سی ہیں لیکن منصوبہ بندی خاص ہے مشتاق یوسفی کا کہنا ہے کہ کتاب کا خود دیباچہ لکھنے میں وہی سہولت اور فوائد ہیں جو خودکشی میں ہوتے ہیں یعنی تاریخ وفات آلہ قتل اور موقع واردات کا انتخاب صاحب معاملہ خود کرتا ہے اور تعزیرات پاکستان میں یہ واحد جرم ہے جس کی سزا صرف اسی صورت میں ملتی ہے کہ ملزم ارتکاب جرم میں کامیاب نہ ہو خود کشی کا کلیہ جو ہمیں پسند ہے اس میں نہ تو جرم ہے اور نہ جرم کی سزا البتہ خود کشتی کی سزا ہے سزائیں تو سب واجب ہیں کیونکہ واجبات کے بغیر قرضہ حسنہ ادا نہیں ہوتا خودکشی سے انسان کی صحت اور توانائی ضائع نہیں ہوتی ہم تو کشتی نہیں کر سکتے کیونکہ بچپن میں پہلوان نے ہمارے کانوں میں اذان دی تھی جس کی وجہ سے اکھڑے نہیں گئے البتہ خودی کو قائداعظم رحمة اللہ علیہ کی بجائے علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ سے نوٹ ضرور کر لیا خود داری اور خود اعتمادی حاصل کرنا ہو تو پھر بھی خودی کی ضرورت ہوتی ہے غریب کے لئے خودکشی کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے دولت نہیں ہوتی صرف پیچھے بچے ہوتے ہیں خودکشی کی وجوہات ہمیں تو معلوم نہیں جو خود کشی کرتا ہے اسے یقینا معلوم ہوتی ہیں البتہ ہمیں قلم کی خود کشتی کا پتہ ہے جس کا پتہ بعد میں چلتا ہے کاش کہ ہمارے وزیراعظم یہ کشتی کرلیں کہ نیچے لیول پر آکر سوچیں کہ غریب کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے ہمیں تو غریبوں پر بہت ترس آتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ترس و آس کے سوا کچھ نہیں ہم تو مشتاق یوسفی کی خودکشی کے کلیہ سے بہت متاثر ہیں کیونکہ وہ اپنا نام بھی کتاب کے نام کے اوپر لکھنے کے عادی ہیں تاکہ پہلے ان کا نام پڑھا جائے اور پھر کتاب کا۔

کیونکہ کتاب آخر سے پڑھنے سے ساری سٹوری کا پتہ چل جاتا ہے اور بندے کا ذائقہ اور بد ذائقہ بھی بر قرار رہتا ہے بات تو خودکشی کی تھی البتہ کشتی بھی خودکشی میں مدد کرتی ہے کیونکہ صحیح و سالم کشتی کے بہت کم نقصانات ہیں غربت میں خودی اور خود اعتمادی کے علاوہ خودکشی بھی مل جاتی ہے ماہرین نفسیات نے اس کی بہت سی نفسیاتی وجوہات بھی اپنے اپنے خیالات کے مطابق بتائی ہیں لیکن وجوہات بتانے والے خود،خودکشی کا شکار ہوتے ہیں البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غربت پر کنٹرول کرنے سے شرح اموات کم ہو سکتی ہے دوست نے بتایا کہ محبت میں خود کشتی سے انسانی جذبات کی ریہرسل سے محبت زندہ ہوتی ہے اور خودکشی سے زندہ رہنے کا احساس بھی زندہ رہتا ہے سیاست میں کشتیاں تو جائز ہیں لیکن کشتیاں روک و تھام کرتی رہتی ہیں اسی لئے علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کا کہنا ہے۔

خودکشی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
علامہ صاحب کو یہ شعر کہنے میں ضرور غلطی ہو گئی جس کی درستگی ہم نے خودکشی کے حوالہ سے کر دی ہے زندگی سے دور بھاگنے والے اصل میں خود اعتمادی سے دور بھاگتے ہیں خود کشتی کا جذبہ ہر ایک میں موجود ہوتا ہے لیکن وقت ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ ہے ہمیں خودی کا شوق تو نہیں البتہ کشتی کا شوق ہے جو ہم نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارا تعلق گوجرانوالہ سے نہیں بلکہ نارووال سے ہے البتہ اس کشتی میں ہم نواز شریف کو مشورہ دیتے ہیں وہ سیاسی کشتی کو چھوڑ کرجو چاہتے ہوئے بھی نہیں چاہ سکتے ان کا خیال رکھیں تاکہ معاشرہ میں خودکشی کی فضاء میں فضائی آلودگی کے جراثیم پیدا نہ ہو سکیں۔اب خودکشی اور خود کشتی کی بہت اقسام دریافت ہو گئیں ہیں جن کا مطالعہ آسان زندگی بسر کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔خودکشی کے بہت سے با معنی طریقے بھی سامنے آچکے ہیں۔سیاست دان،پولیس اور بیورو کریسی ایسے مفید طریقوں سے مستفید ہوتی ہے تاکہ معاشرہ کی بہتری ہو اور خودکشی میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں خواہ وہ سیاسی خودکشی ہو،معاشی و اقتصادی خودکشی ہو یا حکومتی خودکشی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *