وسیم جعفر پر لگنے والے الزامات پر انڈیا کے کھلاڑیوں کی خاموشی

سابق انڈین کرکٹر وسیم جعفر پر فرقہ واریت کے الزامات پر کرکٹ کی دنیا میں ہونے والے برائے نام رعمل پر ہم سب حیران کیوں ہیں؟

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 18 فروری 2021) پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈیا کے سابق اوپنر وسیم جعفر پر ڈریسنگ روم کے اندر فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا الزام کس نے لگایا ہے؟

شمالی ریاست اتراکھنڈ کی کرکٹ ایسوسی ایشن نے اب تک اس معاملے میں مخالف دلائل دیے ہیں۔ جبکہ ایک عہدیدار نے مجھے بتایا کہ یہ معاملہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن فرقہ وارانہ نہیں ہو سکتا ہے۔

دراصل کھیلوں کی دنیا میں مذہب کبھی بھی بحث کا موضوع نہیں رہا ہے۔ کبھی نہیں۔

سنہ 1967 میں انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان منصور علی خان پٹودی اپنے ساتھ ایک ایسی ثقافت لائے جس میں کھلاڑیوں کے مابین مضبوط رشتہ قائم ہوا۔

پٹودی کے دور کو یاد کرتے ہوئے انڈیا کے سابق کپتان اور سپنر بشن سنگھ بیدی نے کہا : ‘انھوں نے ہمیں ہندوستانیت کا سبق سکھایا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ٹیم کے طور پر ہم سب ایک ہیں۔’

ایسی صورتحال میں وہ معاملہ جس کی وجہ سے وسیم جعفر کو اپنا دفاع کرنا پڑا، وہ کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔

ان پر ٹیم سلیکشن نے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ امتیاز برتنے اور جمعہ کی نماز کے لیے مولوی صاحب کو ڈریسنگ روم میں بلانے کے الزامات لگائے ہیں۔

اتراکھنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری ماہم ورما نے فرقہ واریت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے کرکٹ سے منسلک مسئلہ قرار دیا ہے۔

حیرت کی بات نہیں ہے کہ الزامات کے بعد وسیم جعفر نے اتراکھنڈ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ مشتاق علی کرکٹ ٹورنامنٹ میں اس ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی۔

وسیم جعفر پر لگنے والے الزامات اور خاموشی؟

جعفر کے استعفیٰ کے بعد جب معاملے نے طول پکڑا تو کرکٹ کی دنیا میں اس پر کیسا ردعمل سامنے آیا؟ کہہ سکتے ہیں کہ صرف برائے نام ہی رد عمل سامنے آیا۔

یہی صورتحال اس وفت دیکھی گئی جب انیل کمبلے کو انڈین ٹیم کے کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تب بھی کرکٹ کے مشہور سٹارز نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔

جعفر کے حق میں انیل کمبلے سب سے پہلے کھڑے ہوئے۔ انڈیا کے سب سے کامیاب لیگ سپنر انیل کمبلے کو وہ درد معلوم تھا جو وسیم جعفر نے محسوس کیا ہو گا، تنہا رہنا اور ڈریسنگ روم میں شریک ساتھیوں سے مایوس رویہ ملنا۔

وسیم جعفر کے لیے انھوں نے بڑے دل والے کھلاڑی کا جذبہ ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا: ‘وسیم ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ تم نے ٹھیک کیا۔ بدقسمتی سے کھلاڑی تمہاری مینٹرشپ سے محروم ہو جائیں گے۔’

ودربھ کرکٹ ایسوسی ایشن نے جعفر کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ چندر کانت پنڈت، امول مجمدار، ششیر ہٹنگڑی، اوشکار سالوی، شیلڈن جیکسن، فیض فضل، محمد کیف، نین دوشی، نشیت شیٹی وغیرہ نے جعفر کی حمایت کی ہے جو ممبئی ٹیم میں ان کے ساتھ کھیل چکے ہیں۔

ملک کے باہر بہت دور زمبابوے کے سابق کپتان اینڈی فلاور کی طرف سے بھی جعفر کو ایک پیغام بھیجا گیا ہے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

بڑے کرکٹ سٹارز کے اس معاملے پر سوشل میڈیا پر خاموشی کی ایک وجہ ٹرول فیکٹری ہو سکتی ہے۔

لیکن ماحول کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی کو ٹیم کے ڈریسنگ روم میں بلانے پر ٹیم کے کھلاڑی اقبال عبداللہ کی بات بھی سنی جانی چاہیے۔

عبد اللہ نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا: ‘ہم مولوی کے بغیر جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ دوپہر تین بج کر 40 منٹ پر ہماری پریکٹس پوری ہونے والی تھی۔ اس کے بعد ہی ہم نماز پڑھتے تھے۔ میں نے پہلے وسیم بھائی سے پوچھا کہ کیا مولوی صاحب کو کال کر سکتے ہیں؟ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ ٹیم منیجر سے اجازت حاصل کرو۔ میں نے ٹیم منیجر نونیت مشرا سے بات کی تو انھوں نے کہا ‘کوئی بات نہیں اقبال۔ نماز اور مذہب پہلے ہونا چاہیے، انھوں نے مجھے اجازت دی اور اس کے بعد ہی میں نے مولوی کو نماز پڑھنے کے لیے بلایا۔

اقبال عبداللہ کے الفاظ بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ کھیل فرقہ واریت سے بالا تر ہے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ کھیلوں میں امتیازی سلوک دوسرے طریقوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے لیکن مذہب اہم عنصر نہیں ہوتا ہے۔

فرقہ واریت کے دائرہ سے اوپر کھیلوں کی دنیا

کھیلوں میں فرقہ واریت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سنہ 1993 میں ہونے والے فسادات میں، سنیل گواسکر نے بھیڑ میں جا کر وہاں پھنسے ایک خاندان کو بچایا تھا۔

کھیلوں کی دنیا میں ظفر اقبال جیسے مشہور ہاکی اولمپین بھی موجود ہیں، کسی بھی تیوہار پر پہلا پیغام نہ صرف ان کا ہوتا ہے بلکہ محمد اظہرالدین، وسیم جعفر، فیض فضل، عبید کمال اور محمد کیف کے پیغامات بھی ہوتے ہیں۔

ظفر اقبال تو بھاگوت گیتا اور رگ وید کے بھی جاننے والے ہیں۔ اسی طرح، بشن سنگھ بیدی بھی تمام مذاہب کی کتابوں کو سمجھتے ہیں۔

محمد شاہد جیسے ہاکی کے جادوگر کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے جو وارانسی سے آتے تھے؟ کھیل اور کردار میں جو بھی اچھی بات ہو سکتی ہے وہ محمد شاہد میں موجود تھی۔

ہم نے دیکھا ہے کہ وہ کس طرح پاکستان کے خلاف اپنی بہترین صلاحیتیں بچا کر رکھتے تھے۔ انھوں نے یہ کام کسی خاص وجہ سے نہیں کیا بلکہ وہ پاکستانی ٹیم کو ٹکر کا حریف سمجھتے تھے اور اپنی مہارت سے انھیں زچ کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی ڈرائبنگ سے شرمندہ محسوس کراتے تھے۔ یا جیسا کہ محمد کیف کہتے ہیں ‘کرکٹ کھیلتے وقت مجھے کبھی بھی اپنے مذہبی عقیدے کی یاد نہیں آتی تھی۔’ سچائی بھی یہی ہے۔

کھیل کی صحافت میں اپنے کیریئر کے دوران مجھے کئی شاندار لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جو چھوٹی سیاست اور فرقہ واریت سے بالاتر تھے۔

رمضان کے مہینوں میں ہم مسلمان دوستوں کی موجودگی میں پانی تک نہیں پیتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں بھائی چارے کی مثال کے طور پر ہم نے بہت سارے نو عمروں اور بہت سے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

موجودہ دور میں، لوگ سوشل میڈیا پر جلد بازی میں نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور یہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا ہے۔ قداور کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس طرح سے معاشرے کو متاثر کرنے والے واقعات پر اپنی بات رکھیں۔

بہرحال عوامی سطح پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا کسی کا ذاتی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کسی کی حمایت کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا ہے تو ایسے وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں بہت تقویت ملتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتہائی اہم وقت پر وسیم جعفر کو وہ مدد نہیں ملی۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں Multan TV HD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *