رابعہ بصری

رابعہ نے اس شخص کے گھر کو خیر باد کہا اور شہر کے ایک غریب علاقے میں اپنا تمام تر وقت عبادت الٰہی میں گزارنے لگی

زیادہ تر اسلامی صوفی ازم کو محبت کا صوفی ازم کہا جا سکتا ہے اگر چہ ما بعد آنے والے کچھ صوفی وحدت وجود کے رجحان کے حامل تھے۔یہاں پر محبت خدا کے ساتھ اعلیٰ ترین ملاپ کی نمائندگی نہیں کرتی لیکن یہ اس سڑک پر ایک اسٹیشن کی مانند ہے جو زیادہ مکمل شناخت کی جانب جاتی ہے۔

اس ابتدائی محبت کے صوفی ازم کی پر کشش ترین ہستی یقینا سابقہ غلام رابعہ ہے۔ان کے ساتھ رات کے وقت کی جانے والی کچھ مخصوص دعائیں منسوب کی جاتی ہیں!

”میرے خدا ستارے چمک رہے ہیں اور انسانوں کی آنکھیں
بند ہیں اور بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں اور یہ
ایک عاشق اپنے معشوق کے ساتھ تنہا ہے اور میں یہاں تیریساتھ تنہا ہوں“

یہاں پر خالص محبت کا اظہار ہوتا ہے اور ما بعد آنے والے صوفیا کرام بھی اسی معیار کی حامل محبت کا مظاہرہ کرتے تھے وہ اپنے کسی مفاد کے حصول کی خاطر محبت کے دعوے دار نہ تھے۔

”اگر میں دوزخ کے خوف سے تمہاری عبادت کرتی ہوں مجھے
دوزخ میں پھینک دیا جائے اور اگر میں جنت کی امید میں تیری
عبادت کرتی ہوں،مجھے جنت سے نکال دیا جائے لیکن اگر میں
محض تیرے لئے تیری عبادت کرتی ہوں تب مجھے اپنی محبت سے محروم نہ رکھنا“

رابعہ غالباً ایک غریب خاندان کی چوتھی بیٹی تھی۔کچھ دیر تک انہوں نے بصرہ کے ایک گھرانے میں بطور گھریلو خادمہ بھی خدمات سر انجام دی تھیں۔

ان کے مالک نے ان کی دین داری،پرہیز گاری،پارسائی اور خدا پرستی کے پیش نظر انہیں آزاد کر دیا تھا۔بہت سے لوگ ان کے تقدس اور بزرگی سے متاثر تھے اور ان سے اپنے حق میں دعائے خیر کرنے کی درخواست کرتے تھے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔

انہوں نے خدا کی خالص محبت کا نظریہ متعارف کروایا تھا۔انہوں نے نظریہ زہدو ریاضت کی اس زندگی میں متعارف کروایا تھا۔

اس صوفیانہ زندگی میں متعارف کروایا تھا جو زندگی دوسری صدی الہجری کے ان مسلمانوں میں مروج تھی جو خدا کی طلب رکھتے تھے۔انہوں نے خدا کی خالص محبت پر زور دیا تھا اور قرآن کی اس آیت کا حوالہ پیش کیا تھا۔

”وہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں“

انہوں نے اپنے احساسات کا اظہار اپنی خوبصورت دعاؤں میں کیا تھا۔وہ طویل راتیں خدا کے ساتھ محو کلام ہوتے ہوئے گزارتی تھی۔

فرید الدین عطار (وفات 1221ء) نے تذکرة الاولیاء میں رابعہ بصری کی بے حد تعریف سر انجام دی ہے۔رابعہ بصری کے ساتھ کئی ایک روایات بھی منسوب ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ جب وہ حج بیت اللہ کے لئے گئی تھی تب کعبہ بذات خود ان کے استقبال کے لئے آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ!
”مجھے اس گھر کے مالک کی ضرورت ہے اور اس گھر کی ضرورت نہیں ہے“

فرید الدین عطار کہتے ہیں رابعہ خدا کے ساتھ تعلق کے حوالے سے مثالی نوعیت کی حامل تھی اور اس حوالے سے کوئی ان کی برابری نہیں کر سکتا ۔ان کے دور کے تمام تر عظیم صوفیا کرام ان کی بے حد عزت کرتے تھے اور اپنے ہم عصروں میں وہ بلند تر رتبے کی حامل تھی۔

رابعہ ابھی نو عمر لڑکی تھی جبکہ اس کے والدین اللہ کو پیارے ہو گئے تھے اور وہ ان کی بہنیں یتیم ہو گئی تھیں۔جلد ہی بصرہ شدید قحط کی لپیٹ میں آچکا تھا اور ان کی بہنیں اس سے بچھڑ گئی تھیں۔ایک روز جبکہ وہ ایک ویران بازار سے گزر رہی تھی ایک ظالم شخص نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں ایک اور شخص کے ہاتھ محض چھ درہم کے عوض فروخت کر دیا۔

رابعہ کا مالک ہمدردی سے عاری شخص تھا وہ اس سے بہت زیادہ کام لیتا تھا۔ رابعہ خوش دلی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ دن بھر روزے کی حالت میں رہتی تھی اور رات کا زیادہ تر حصہ عبادت الٰہی میں صرف کرتی تھی۔کئی برس بعد،ایک رات جب ان کا مالک نصف رات کے قریب نیند سے بیدار ہوا اور اس نے کھڑکی سے ان کے کمرے کے اندر جھانک کر دیکھا اور انہیں عبادت الٰہی میں مصروف پایا۔

وہ حالت سجدہ میں تھی اور ان کے لبوں پر یہ الفاظ جاری تھے کہ!
”میرے خدا․․․․آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کا ہر ایک
لمحہ آپ کی عبادت میں صرف کرنا چاہتی ہوں لیکن میں اپنی اس
خواہش پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہوں کیونکہ آپ نے مجھے اپنی ایک دوسری مخلوق کی رعایا بنایا ہے“
وہ شخص یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ جو نہی رابعہ عبادت الٰہی میں مصروف تھی۔

ان کے سر کے اوپر ایک چراغ ہوا میں متعلق تھا اور ان کے کمرے میں روشنی بکھیر رہا تھا۔وہ یہ سب کچھ دیکھ کر اس قدر ہراساں ہوا کہ اس رات دوبارہ سو نہ سکا اور بے چینی کے ساتھ طلوع آفتاب کا انتظار کرنے لگا۔جب صبح نمو دار ہوئی تب اس نے رابعہ کو بلوایا اور نرم اور مہربان لہجے میں ان سے مخاطب ہوا اور ان سے معافی طلب کی اور انہیں آزاد کر دیا۔رابعہ نے اس شخص کے گھر کو خیر باد کہا اور شہر کے ایک غریب علاقے میں اپنا تمام تر وقت عبادت الٰہی میں گزارنے لگی۔

وہ اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستی تھی۔انہوں نے اپنے آخری سانس تک تارک لذات اور غربت کی راہ اپنائی تھی اور کبھی شکایت نہ کی تھی۔
فرید الدین عطار نے ایک حکایت بیان کی ہے جو سوچ کو جلا بخشنے والی ہے۔ ایک روز رابعہ سے پوچھا گیا کہ:
”کیا وہ اعلیٰ و برتر اور شان و شوکت کے حامل رب سے محبت کرتی ہیں؟“
انہوں نے جواب دیا کہ:۔

”ہاں میں محبت کرتی ہوں“
اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ:۔
”کیا آپ شیطان کو ایک دشمن تصور کرتی ہیں؟“
انہوں نے جواب دیا کہ:۔
”نہیں“
لوگ حیران ہوئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ:۔
”اس کی وجہ کیا ہے؟“
رابعہ نے جواب دیا کہ:۔
”خدا کے ساتھ میری محبت شیطان کے ساتھ نفرت کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی“
ایک مرتبہ رابعہ علیل تھی۔ایک شخص عیادت کے لئے آیا اور ان سے دریافت کیا کہ ان کی علالت کی وجہ کیا تھی؟
رابعہ نے جواب دیا کہ:۔
”خدا کی قسم مجھے اپنی علالت کی وجہ معلوم نہیں ہے ماسوائے اس
کے کہ جنت میرے سامنے ظاہر کر دی گئی تھی اور میرے دل میں
اس کی خواہش پیدا ہوئی تھی اور میں نے سوچا کہ میرا خدا مجھ سے
بدگمان ہے اور میری سرزنش کر رہا ہے اور محض وہی مجھے خوش کر سکتا ہے“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *