ملک کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، اردنی حکام

عمان: اردن کے حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے مملکت کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے جس میں شاہ عبداللہ دوئم کے ایک سوتیلے بھائی ملوث تھے اور کم ازکم 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 05 اپریل 2021)  نائب وزیراعظم ایمن صفدی کا کہنا تھا کہ حمزہ بن حسین اور دیگر نے اردن کی ‘سلامتی کو مجروح’ کرنے کے لیے غیر ملکی پارٹیز کے ساتھ کام کیا۔

حمزہ بن حسین سابق ولی عہد تھے جن سے بادشاہ نے 2004 میں یہ منصب واپس لے لیا گیا تھا۔

واشنگٹن، خلیجی اتحادیوں اور عرب لیگ کی جانب سے فوری طور پر شاہ عبداللہ کی مغرب حامی حکومت کے لیے حمایت کا عزم ظاہر کیا گیا۔

قبل ازیں ہفتہ کے روز شہزادہ حمزہ بن حسین نے بی بی سی کے ذریعے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اردن کے حکمران پر اقربا پروری اور کرپشن کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہیں نظر بند کردیا گیا ہے۔

سابق ولی عہد نے اپنا پیغام اردن کے دارالحکومت عمان میں اپنے محل سے بذریعہ سیٹیلائٹ لنک بھیجا۔

جس میں انہوں نے اردن کے ‘نظامِ حکمرانی’ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کے متعدد دوستوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ان کی سیکیورٹی تفصیلات ہٹا دی گئی ہیں اور انٹرنیٹ اور فون کی لائنیں منقطع کردی گئیں۔

انہوں نے ‘کسی سازش یا بدمعاش تنظیم’ کا حصہ ہونے کی تردید کی لیکن یہ بھی کہا کہ ایک کروڑ افراد کا ملک بدعنوانی، اقربا پروری اور بدانتظامی میں جمود کا شکار ہوگیا ہے اور کسی کو بھی حکام پر تنقید کی اجازت نہیں۔

اردن کے سرکاری خبررساں ادارے بترا نے کہا کہ جن افراد کو ‘سیکیورٹی وجوہات’ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے ان میں شاہی خاندان کے قریبی معاونین، رائل کورٹ کے 08-2007 کے سربراہ باسم عوض الله اور شریف حسن بن زید شامل ہیں۔

ناب وزیراعظم جو اردن کے وزیر خارجہ بھی ہیں انہوں نے اتوار کے روز بتایا کہ مزید 14 سے 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی سروس اردن کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے غیرملکی پارٹیوں کے ساتھ رابطوں کی نگرانی کررہی تھی جس میں حمزہ کی اہلیہ کو ملک سے باہر جانے کی ایک مبینہ پیش کش بھی شامل تھی۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *