عالمی شخصیات کی ’کسان تحریک‘ کی حمایت پر بھارتی حکومت برہم

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 4 فروری 2021) گزشتہ برس کے آخر سے حکومت کی جانب سے بنائے گئے ’کسان دشمن‘ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی کسانوں کی ’آندولن تحریک‘ جہاں دن بہ دن مضبوط ہوتی جا رہی ہے، وہیں اب اسے عالمی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہوگئی۔

بھارت کے ہزاروں کسان نومبر 2020 سے بھارت کی مختلف ریاستوں اور دارالحکومت نئی دہلی میں حکومت کی جانب سے ’کسان دشمن‘ قوانین بنائے جانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
کسانوں کے مذکورہ احتجاجی سلسلوں کو ’کسان آندولن تحریک‘ بھی کہا جا رہا ہے، اس تحریک کو گزشتہ ماہ 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ پر اس وقت عالمی پذیرائی ملی جب کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے نئی دہلی کے لال قلعے پر کسان تحریک اور مبینہ طور پر سکھوں کے لیے مذہبی طور پر مقدس جھنڈے لہرائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: کسانوں کا احتجاج روکنے کی کوشش، نئی دہلی میں رکاوٹوں میں اضافہ
مذکورہ احتجاج کے بعد بھارتی حکومت نے کسانوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے درجنوں کسانوں کو گرفتار بھی کیا جب کہ کسانوں کے احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے خلاف بھی ایکشن لیا۔
علاوہ ازیں حکومت نے سماجی رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کی، جس پر بھارتی حکومت کو عالمی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

Kisan Protest
عالمی شخصیات کی ’کسان تحریک‘ کی حمایت پر بھارتی حکومت برہم


بھارتی کسان نومبر 2020 سے احتجاج پذیر ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
تاہم اب ایک بار پھر ’کسان آندولن تحریک‘ پر اہم اور بااثر سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات ٹوئٹ کرکے کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہیں، جس پر بھارتی حکومت برہم ہوگئی۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق اہم و بااثر عالمی شخصیات کی ’کسان آندولن تحریک‘ کی ٹوئٹس پر حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ٹوئٹس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے عالمی شخصیات کی ٹوئٹس پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی شخصیات کسانوں کے احتجاج پر بات کرنے سے قبل حقائق کو دیکھیں۔
ترجمان نے احتجاج کرتے کسانوں کی حمایت پر عالمی شخصیات کی حمایت کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کسانوں کو شرپسند اور توڑ پھوڑ کرنے والا گروہ قرار دیا اور کہا کہ اس گروہ کے لوگ مہاتما گاندھی کے مجسمے تک کو توڑنے پر تیار ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق زرعی قوانین بھارت کی پارلیمنٹ نے منظور کیے مگر یہ چند لوگ انہیں نہیں مان رہے۔
بھارتی وزیر خارجہ کا یہ بیان معروف گلوکارہ ریانا، سماجی رہنما گریٹا تھونبرگ، سابق اداکارہ و اسپورٹس اینکر میا خلیفہ، امریکی نائب صدر کمالا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس سمیت دیگر شخصیات کی ٹوئٹس کے بعد سامنے آیا۔
گلوکارہ و اداکارہ ریانا نے اپنی مختصر ٹوئٹ میں احتجاج کرتے بھارتی کسانوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ ہم اس مسئلے کی طرف توجہ کیوں نہیں دے رہے؟‘
اسی طرح سابق اداکارہ و اسپورٹس اینکر میا خلیفہ نے بھی احتجاج کرتے کسانوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’کیا دہلی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیا وہاں انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا؟‘
انہی کی طرح سماجی رہنما گریٹا تھونبرگ نے بھی اپنی مختصر ٹوئٹ میں احتجاج کرتے بھارتی کسانوں کی خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ مشکل کی گھڑی میں ان مظاہرے کرنے والے افراد کے ساتھ ہیں۔
اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کرنے والے کسانوں سے برطانوی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا وہبی نے بھی اظہار یکجہتی کیا اور ساتھ ہی انہوں نے گلوکارہ ریانا کا بھی مذکورہ معاملے پر آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا۔
ان شخصیات کی طرح نائب امریکی صدر کمالا ہیرس کی بھتیجی لکھاری مینا ہیرس نے بھی احتجاج کرتے کسانوں کی حمایت کی اور انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ انڈین حکومت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہے مگر وہاں کسانوں پر تشدد کرکے ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری حکومت میں انٹرنیٹ بند کیا جا رہا ہے اور کسان ایک ماہ سے زائد عرصے سے مظاہروں پر مجبور ہیں۔
مینا ہیرس نے بھارتی کسانوں کی احتجاجی تحریک پر سلسلہ وار ٹوئٹس کیں، جن میں انہوں نے بھارتی حکومت کے مظالم پر بھی کھل کر بات کی۔
ان کے علاوہ دیگر عالمی شخصیات نے بھی بھارتی کسانوں کی حمایت میں ٹوئٹس کیں، جس کے بعد بھارتی شوبز شخصیات اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی ٹوئٹس کرنا شروع کردیں۔
بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ اگرچہ مذکورہ معاملے پر پہلے بھی ٹوئٹس کر چکی ہیں تاہم انہیں بھی اس بار بھارتی حکومت کی طرح گلوکارہ ریانا کی ٹوئٹ اچھی نہیں لگی اور انہوں نے ریانا کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ کیوں کہ تمام بھارتی کسان نہیں ہیں، اس لیے کوئی اس معاملے پر بات نہیں کر رہا۔
کنگنا رناوٹ نے ساتھ ہی اپنی ٹوئٹ میں احتجاج کرنے والے کسانوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ یہ مظاہرے کرنے والے لوگ بھارت کے دو ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں تاکہ دوسرے حصے پر آکر چین حکومت کرے۔
ٹوئٹر پر ’کسان آندولن تحریک‘ کو عالمی حمایت ملنے پر بھارتی حکومت برہم دکھائی دی اور حکومت نے مزید سخت فیصلہ کرتے ہوئے ٹوئٹر کو حکم دیا کہ وہ تشدد پر ابھارنے والا مواد شیئر کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس کو بند کرے۔
انڈیا ٹوڈے نے ہی اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ عالمی شخصیات کی ٹوئٹس کے بعد مقامی سیاسی، سماجی و سوشل میڈیا پر متحریک شخصیات نے جب ’کسان آندولن تحریک‘ پر ٹوئٹس کیں تو وزارت ٹیکنالوجی نے ٹوئٹر کو کئی اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کردیا۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ کسان دشمن قوانین واپس لیے جائیں—فائل فوٹو: ای پی اے
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹوئٹر نے وزارت ٹیکنالوجی کی شکایت پر دو فروری کو 250 ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل کردیے تھے تاہم انہیں دوبارہ بحال کیا گیا، جس کے بعد حکومت نے مائکرو بلاگنگ سائٹ کو دوبارہ نوٹس جاری کیا۔
مزید پڑھیں: کسانوں کے احتجاج کی رپورٹنگ پر بھارتی صحافیوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات
وزارت ٹیکنالوجی نے ٹوئٹر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف چلائے جانے والے ایک ہیش ٹیگ کو بھی بلاک کرنے کی ہدایت کی جب کہ ان تمام اکاؤنٹس کو بند کرنے کی ہدایت بھی کی جو ’کسان آندولن تحریک‘ سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔
حکومت نے ٹوئٹر کو 5 صفحوں پر طویل ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے مائکرو بلاگنگ سائٹ کو بھارتی حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے سائبر قوانین کا حوالہ بھی دیا۔
کسانوں کے احتجاج متعدد شہروں میں جاری ہیں اور انہوں نے احتجاج کی جگہ عارضی بستیاں تک بنا رکھی ہیں
اس سے قبل ٹوئٹر نے بھارتی حکومت کی درخواست پر یکم اور دو فروری کو درجنوں اکاؤنٹس کو بند کردیا تھا۔
دی وائر کے مطابق ٹوئٹر نے یکم فروری کو نہ صرف صحافیوں، سماجی شخصیات بلکہ ان نشریاتی اداروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی بند کردیے تھے جو ’کسان مظاہروں‘ کو خصوصی کوریج دے رہے تھے۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں Multan TV HD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *