خبرنامہ تفریح ​​ہے

اخبارات کو پڑھنے کے لئے ورزش ضرور کرنی چاہئے ورزش سے صحت اور خبریں جذب کرنے کے جراثیم میں اضافہ ہوتا ہے کسی نے پوچھا کہ اخبارات میں کیا پڑھنا ضروری ہے تو بتایا گیا کہ سوائے رشتہ کی ضرورت کے سب غیر اہم اور بے بنیاد ہیں ہمیں تو ابھی ضرورت رشتہ کے علاوہ باقی اخبار پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔کالج اور یونیورسٹی کے زمانہ میں فلمی اشتہارات کے علاوہ باقی دیکھنا ہمارے لئے دفعہ 302کے برابر تھا۔

کیونکہ فلمی اشتہار دیکھنے سے باقی اخبار پڑھنے کی چاہت ریما کے پاس چلی جاتی تھی ۔ویسے بھی کارٹون اور تصویر دیکھنے سے ہزاروں الفاظ پڑھنے سے بندہ بچ جاتا ہے اور مفہوم بھی سمجھ میں آجاتا ہے اخبار اور خبر میں امتیاز کرنا ہو تو اخبار کو نہیں صرف خبر کو دیکھنا چاہئے۔

صحافی اخبار نہیں پڑھتے کیونکہ ان کے پاس وقت نہیں ہوتا ان کا وقت اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ سیاستدان ان کے وقت کو استعمال کرتے ہیں ۔

خبر کی نسبت تصویر دیکھنا مفید اور صحت کے لئے روح افزاء کا کام دیتا ہے ان پڑھ کو خبر پڑھنے کی تمنا نہیں ہوتی کیونکہ اس کا رشتہ اداکارہ تمنا کے ساتھ ہوتا ہے یہ لوگ فلموں کے اشتہارات کو دیکھ کر باقی اخبار کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں کسی فلاسفر سے پوچھا گیا کہ اخبار میں خبریں پڑھنے کا طریقہ کیا ہے تو فلاسفر نے کہا آسان طریقہ یہ ہے کہ خبر پڑھ لوں لیکن اس پر عمل نہ کرو سیاستدان عمل نہیں کرتے بلکہ اخبار خریدتے ہیں۔

نوکری اور چھوکری لینے کے لئے خبر کو بے خبر کرنا اچھی عادات میں شامل ہوتا ہے۔یہ دونوں خبروں میں ہوتی ہیں ۔ہم تو اخبار اس لئے پڑھتے ہیں کہ اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے علم میں اضافہ کی کیا ضرورت ہے علم تو عالم دین کے پاس یا یونیورسٹی میں سٹور ہوتا ہے سیاسی افراد کو ڈاکٹر بہت سے پرہیزوں سے باز رہنے کی باضابطہ تلقین کرتے ہیں ان میں خبریں زیادہ پڑھنا بھی شامل ہے اس پرہیز سے سیاسی افراد اس لئے پرہیز کرتے ہیں کہ ان کا ہاضمہ اقتدار میں خراب نہ ہو جائے ۔

نواب زادہ نصراللہ خاں تو خبروں سے باز رہتے تھے کیونکہ ان کے پاس باز بہت زیادہ تھے پرندے پالنے کا انہیں شوق بھی تھا اور شوقین بھی کرنل محمد خاں کسی خاتون کی پارٹی میں گئے تو خاتون نے دیکھ کر کہا کہ اس نے ”بجنگ آمد“ لکھی ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ پرانے وقتوں میں تو خبریں نہیں گھوڑے ہوتے تھے جن کو چارہ بھی ڈالنا پڑتا اور دال بھی کھلوانی پڑتی تھی بلڈ پریشر کو نارمل کرنے کے لئے بھی اپنی خبر لینی ضروری ہے بے نظیر بھٹو تو خبر کو پکڑ لیتی تھیں اور پھر خبر ان سے چھٹکارا حاصل کرتی اب تو جنگ لگنے اور جنگ پڑھنے سے ہمیں نزلہ کی شکایت ہو جاتی ہے اور پھر کسی کالج کے سرٹیفکیٹ شدہ حکیم کی امداد درکار ہو جاتی ہے غلام حیدر وائیں تو خبروں کو اپنے پاس رکھتے تھے اور جو خبر خبر دار نہ کرتی اس کو سٹور کر لیتے تھے سٹوروں کا بھی مکمل بندوبست آرمی کی نگرانی میں ان کے پاس موجود تھا۔

نیوز اور خبر میں امتیاز ہی افراد کر سکتے ہیں جن کی بیویاں ان کے پاس رہتی ہیں ۔نیوز سے نئی چیز میسر آتی ہے اور خبر سے با خبر رہنے کے طریقے آتے ہیں قدیم زمانہ میں یہ کام میراثی خوش اسلوبی سے ڈھول کے ذریعہ ایسے طریقے سے سر انجام دیتے تھے کہ دوسرے جاگے افراد اٹھ بیٹھتے تھے اور بچے اللہ سے دعائیں مانگتے تھے کہ یا رب کہیں ایسی خبر سے محفوظ رکھنا۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ناظرین الیکٹرانک میڈیا سے خبریں دیکھتے تو ہیں لیکن رو پڑتے ہیں کہ کہیں اسمبلی ٹوٹنے کی خبر نشر ہو گئی تو پھر ملک کی اور ووٹروان کی خیر نہیں ہوتی ہے ہمارے ہاں تو اچھی خبر کی امید سے نا امیدی پیدا نہیں ہوتی اخبارات دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔کیونکہ دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے اور تمام الزامات ان کے گلے پرو دئیے جاتے ہیں ۔

اخبار میں اور سیکس میں فرق ہے انسانی جذبات کی ترجمانی کرنا آسان کام نہیں کیونکہ جذبات سے افعال سر زد ہوتے ہیں اس لئے ضیاء الحق اتنے جذباتی نہیں تھے البتہ عوام اسلامی قوانین کے نفاذ میں ان کے جذبات کی قدر کرتے تھے کہ 11سال میں وہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی خبر بنے رہے اور خبروں سے اس طرح جڑے رہے جیسے شیکسپیئر ڈراموں کے ساتھ جڑا رہا انگریزی ادب بے ادب ہے کیونکہ انگریزی سے انگریزوں کے رواجات ملتے ہیں انگریزی تاریخ دان کہتے ہیں کہ شیکسپیئر گھر سے ایسا بھاگا تھا کہ اسٹیج ڈراموں کا بھاگتے بھاگتے پہنچ گیا ۔

البتہ حزب اقتدار کو خبروں کے بہت فوائد ہیں اور وہ ان سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے صحافیوں کی خدمات سے انکار نہیں کرتے البتہ ان خدمات کا صلہ ضرور دیتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ محمد شاہ رنگیلا کی طرح من مانی کرتے ہیں جب محمد شاہ رنگیلا پر حملہ آور ہوا تو سب دربار سے بھاگ گئے لیکن محمد شاہ رنگیلا بیٹھا رہا۔حملہ آوروں نے پوچھا کہ تم کیوں نہیں بھاگے کہا میری جوتی پکڑانے والا بھاگ گیا تھا اگر جوتے پکڑاتا تو میں پہن کر بھاگتا ۔

ہمیں تو اب بھاگنا نہیں آتا کیونکہ سکول میں ماسٹر نے اتنا بھگایا کہ بھاگنا بھول گئے ہیں سکول سے بھاگنے کی عادت سے ایسے بھاگے کہ دو بار مڑ کر نہیں دیکھا۔ اب اخبارات سے نکلنے کے طریقے اتنے مقبولیت حاصل کر چکے ہیں کہ بڑوں بڑوں کی خبر لینی پڑ جاتی ہے پچھلے دنوں ہمارے دوست ایسے نکلے کہ اب وہ نکلنے کا طریقہ بھی بھول گئے ۔بھول چونک ہو تو معاف ورنہ اخبارات والے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔خبروں اور خبرنامہ پر عمل کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس سے ذہنی ہاضمہ درست نہیں رہتا۔ خبرنامہ پڑھنا ضروری ہے ۔سننا ضروری نہیں۔ اب خبریں پڑھنے کے لئے ورزش کو ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔ اور ہاضمہ کی درستگی کے لئے کسی حکیم کی خدمات ضرور لے لینی چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *