ناسا نے 80 کروڑ روپے کے مقابلے کا اعلان کردیا

نیویارک(ملتان ٹی وی ایچ ڈی ۔ 02 اکتوبر 2020ء) امریکہ کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ’ناسا‘ طویل عرصے سے چاند اور دیگر سیاروں پر توانائی کے استعمال کے موضوع پر تحقیق کر رہی ہے لیکن تاحال اس میں اسے کامیابی نہیں مل سکی اور اب اس نے یہ معاملہ عام لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اورایسے شخص کے لیے 50لاکھ ڈالر (تقریباً 82کروڑ 71لاکھ روپے)انعام کا اعلان کر دیا ہے جو انہیں بتا سکے کہ چاند پر توانائی کو کیسے مینیج (Manage)کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ ناسا نے کراؤڈ سورسنگ پلیٹ فارم ’ہیروایکس‘ کے اشتراک سے شروع کیا ہے، جسے ’واٹس آن دی مون چیلنج‘ (Watts on the Moon Challenge)کا نام دیا گیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے جو افراد یا ٹیمیں درخواستیں دیں گی انہیں چاند پر انرجی ڈسٹری بیوشن، مینجمنٹ اور سٹوریج کے ممکنہ حل تجویز کرنے ہوں گے اور یہ حل ایسے ہونے چاہئیں جو ناسا کے چاند کی سطح پر مستقبل میں ہونے والے آپریشنز میں مددگار ثابت ہو سکیں۔رپورٹ کے مطابق یہ ایک انتہائی مشکل چیلنج ہے کیونکہ چاند اور دیگر سیاروں پر سولر انرجی وافر مقدار میں موجود ہے، جس کا انحصار کلی طور پر انرجی مینجمنٹ پر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سیاروں پر مختلف طرح کے ماحول کا سامنا ہوتا ہے، جیسا کہ چاند پر رات 350گھنٹے تک طویل ہو سکتی ہے۔ اتنا وقت سورج کے بغیر گزرنے پر وہاں ماحولیاتی درجہ حرارت میں شدید تبدیلی آتی ہے اور دن اور رات کے اوقات کے آپریشنز ناممکن ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بناء پر چاند اور دیگر سیاروں پر انرجی پیدا کرنے سے زیادہ انرجی کی مینجمنٹ، ڈسٹری بیوشن اور سٹوریج بڑا چیلنج ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *