مریم نواز: گوجرانوالہ کی تقریر کو فیصلہ کن قرار دے دیا گیا

16 اکتوبر کے جلسے میں مریم نوا زکی تقریر فیصلہ کرے گی کہ انہوں نے اگلے جلسوں میں جائیں گی یا پھر جیل جانا ہے ، تجزیہ کار عارف حمید بھٹی

اسلام آباد ( ملتان ٹی وی ایچ ڈی ۔ 13 اکتوبر2020ء) 16 اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام ہونے والے گوجرانوالہ جلسے میں مریم نوا زکی تقریر فیصلہ کرے گی کہ انہوں نے اگلے جلسوں میں جائیں گی یا پھر جیل جانا ہے ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کیا ۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عقلمندی کی کہ اپوزیشن کو جلسے کی اجازت دی ، تاہم دھرنے سے متعلق کو ئی فیصلہ نہیں ہوا ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی جلسے میں شرکت کے لیے وزیر آباد سے چند لوگ لے کر آئیں گے ، تاہم گوجرانوالہ جلسے میں مریم نوا زکی تقریر فیصلہ کرے گی کہ انہوں نے اگلے جلسوں میں جانا ہے یا جیل جانا ہے ۔

عارف حمید بھٹی نے کہا کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان فی الحال پوری رقم نہ ملنے پر ناراض ہیں اور انہوں نے لندن میں فون کر کے کہا ہے کہ طالب علموں کو لانے اور کھانے پینے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا ۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت جنوری سے پہلے ہی چلی جائے گی، میرے والد کے بیانیئے کو غلط کہنے والے اپنا معائنہ کروائیں، ہمارا مقابلہ کم ظرف لوگوں سے ہے ، ہمارا مقابلہ جن لوگوں سے ہے ، انہیں رشتوں کی اہمیت نہیں وہ انتقام میں اندھے ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ میڈیا پر خاموشی کی سزا مجھے میڈیا نے دی ہے، جب میں جیل گئی اس کے بعد میرے جلسے تھے، لیکن میری میڈیا پر آواز بند کردی گئی، کوئی ٹیکر یا خبر بھی نہیں چلائی جاسکتی تھی، میرے نام پر پابندی تھی، میڈیا پر خاتون رہنماء کے نام سے ٹیکر چلتے تھے ،میرا نام تب لیا گیا جب مجھے کوٹ لکھپت جیل میں مجھے گرفتار کیا گیا، پھر میڈیا نے چلایا کہ مریم نواز کو گرفتار کرلیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ میری والدہ کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا، میرے والد بیمار تھے، ان کو ہارٹ اٹیک ہوا، جیل میں بھی اٹیک ہوا ، مجھے خوف تھا کہ میری وجہ سے میرے والد پر کوئی سختی نہ آئے ، اس لیے میں نہیں بولی ، کیوں کہ میرے والد کے پلیٹ لیٹس کم ہوگئے، ان کی حالت خطرے میں تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *