شادیاں

شادی کرنے کے لئے عمر کی قید نہیں ہوتی البتہ وزیراعظم،صدر،ممبر صوبائی اسمبلی بننے کے لئے عمر کی حد ہوتی ہے لہٰذا شادی پہلے کرلینی چاہئے اور ممبر بعد میں بن جانا چاہیے۔ جنت میں یا دوزخ میں جانے کے لئے بھی عمر کی قید نہیں یہاں ایک قید ہے کہ خدا سے اس کی اجازت لینی چاہئے اگر خدا اجازت نہ دے تو اپنی مرضی کو استعمال کرنے میں آر محسوس نہیں کرنا چاہئے بے نظیر بھٹو نے اسی لئے پہلے ہی شادی کر لی تھی شادی کے لئے لوازمات بھی ضروری ہیں ان پڑھ بیوی کا ایک فائدہ ہوتا ہے کہ اپنی مرضی سے زندگی بسر ہوتی ہے جنت میں شادی حق مہر کے بغیر ہو جاتی ہے اور وہ بھی حوروں سے لہٰذا اپنے آپ بس مرنے کا شوق ہونا ضروری ہے تاکہ شادی میں رکاوٹ نہ ہو البتہ ہمیں اتنی جلدی جنت میں جانا پسند تو نہیں مولانا عبدالستار نیازی اور شیخ رشید نے اسی لئے پہلے اسمبلی کا ممبر ہونا پسند کیا ہے اور شادی اس لئے نہیں کی تاکہ خرچہ بچ سکے کیونکہ الیکشن کا خرچہ ان پر ابھی باقی ہے خوشی اور شادی میں فرق ہے۔

مستقل خوشی شادی ہوتی ہے اور بیوی سے اچھی خوشی اس کا خرچہ ہے ممبر بننے کے لئے یادداشت کو اچھا کرنا ہوتا ہے کیونکہ تاریخ پیدائش یاد کرنا ہوتی ہے جو خواتین شادی نہیں کرتی ہیں وہ یا تو سیاست دان ہوتی ہیں یا شاعر یہ مفکر کی بات ہے جو اپنے لئے فکر کرتا ہے کینیا میں شادی کرنے کے لئے مرد کی ضرورت ہی نہیں ہوتی پھر مرد پتہ نہیں کن سے شادی کرتے ہیں وہاں عورت کی عورت کے ساتھ شادی پر ڈاکٹر اور ماہر نفسیات بھی حیران ہیں بیوی کا خرچہ برداشت کرنے کے لئے اپنا بوجھ برداشت کرنا پڑتاہے یا ورزش کے لئے اکھاڑے کی مدد طلب کرناپڑتی ہے گوجرانوالہ کے فرد کو تو ورزش کی ضرورت نہیں پڑتی شادی اور بربادی میں تھوڑا سا فرق ہے کسی نے کسی سے پوچھاکہ شادی کس عمر میں کرنی چاہئے تو اس نے کہا کہ جس عمر میں انسان کی عمربڑھنی بند ہو جائے تاکہ شادی کی ضرورت نہ رہے محکمہ منصوبہ بندی تو شادی کے خلاف ہونے کی وجہ سے بیما ر ہو گیا ہے اور اس محکمہ کو خود منصوبہ بندی کی ضرورت پڑ گئی ہے مدرٹریسا نے بہبود آبادی کو چھوڑ کر فلاح و بہبود سے شادی کی لی تھی غیر شادی شدہ شخص کا ایک فائدہ بھی ہے کہ اس کی موت پر سوائے بیوی کے سب روتے ہیں ۔

اور بیوی کو دوسری شادی کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرنی پڑتی لیکن یہ کہ چار شادیاں کرنے سے جو اسلام نے جائز اور عورت سے زبردستی نا جائز قرار دی ہیں سے اتفاق و اتحاد کی فضاء میں کمی ہو جاتی ہے یورپ میں شادی کی نہیں جاتی ڈالرکی تعداد میں اضافہ کرنا ہوتا ہے فلمی اداکارائیں شادی کرنے میں جلدی نہیں کرتی ہیں کیونکہ انہیں فلموں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی فکر ہوتی ہے شادی کرنے کی فکر سے اداکارائیں آزاد ہوتی ہیں اور ان کی اس آزادی پر نہ تو حکومت پابند ی عائد کرتی ہے اور نہ فیملی لیکن ان کے سیکس سکینڈلز اخبارات پابندی سے شائع ہوتے ہیں شادی اور ملازمت میں دو مشترکہ باتیں ہیں شادی کے لئے تعلیم اور ملازمت کے لئے بھی تعلیم ضروری قرار دی گئی ہے لیکن حساب کتاب رکھنے کے لئے محکمہ اعداد و شمار کی خدمات لینی پڑتی ہیں کیونکہ معیشت ،تعلیم،صحت اور روزگار کے شمارے ان کے پاس شمار ہوتے ہیں ۔

یورپ میں شادی کرنے کے لئے ایک چیز ضروری ہوتی ہے وہ ہے ڈالر کی مقدار کتنی مقدار میں ڈالر ہیں تعداد کا وہاں حساب کتاب نہیں ہوتا شادی نہ کرنے سے بیوی سے نجات مل جاتی ہے اور سنگل خرچہ پر زندگی کے نشیب و فراز کی رفتار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

سیاسی افراد شادی اس لئے کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بیوی نہیں ہوتی اسمبلی ہال ہوتا ہے شاعروں و ادیبوں کو نہ تو شاعری سے فرصت ملتی ہے اور ادب سے اس لئے کہ ان کے ادب میں بے ادبی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مرزا غالب اسی لئے شادی سے پرہیز اور بیوی سے محبت کرتے تھے لیکن ان کو محبت کتنی مہنگی پڑی اس زمانہ میں مہنگائی تو نہیں تھی اداکارہ ٹیلر نے تو اتنی شادیاں کیں کہ اب انہیں شادی گھر یعنی میرج گھر کھولنے کی ضرورت نہیں اور نہ وہ بوڑھی ہوئی ہیں کیونکہ ان کو نوجوان شوہر اور شہر ملے ہیں۔

شادی کا شوق پرانا ہو چکا ہے اور محبت کا شوق اتنا ہو گیا ہے کہ اب شادی کی ضرورت ختم ہو گئی ہے محبت کی ضرورت اور مانگ میں دن بدن اضافہ سے لڑکیاں سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کسی فلاسفر نے دوسرے سے پوچھا کہ شادی ضروری ہے یا محبت تو اس نے جواب دیا کہ محبت کیونکہ شادی بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن محبت بوڑھی نہیں ہوتی لہٰذا بندے کو محبت کرنی چاہئے شادی نہیں ۔البتہ سیاست بھی بوڑھی نہیں ہوتی کیونکہ اس کو بوڑھے ہونے میں عرصہ درکار ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *