میں شعیب اختر سے زیادہ تیز بائولر تھا اور ہو

60ء کی دہائی میں 110سے 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بائولنگ کرتا تھا ،حنیف محمد، وزیر محمد نے یقینی بنایا کہ دورہ آسٹریلیا کے بعد دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل سکوں: سابق فاسٹ بائولر

لاہور (ملتان ٹی وی ایچ ڈی ۔ 28 ستمبر 2020ء ) پاکستان میں کرکٹ کی جانب سے ٹھکرائے گئے چند نادر ہیروں میں سے ایک قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر فاروق حامد نے کہا کہ انہوں نے گندی سیاسی کے سبب مایوس ہو کر 1969ء میں 25 سال کی عمر میں کرکٹ چھوڑ دی تھی اور یہی گندی سیاست اب تک پاکستان کرکٹ کو جکڑی ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل کیریئر میں اپنا واحد میچ آسٹریلیا کیخلاف کھیلنے والے فاروق حامد نے واحد وکٹ 1964ء میں میلبورن کے مقام پر این چیپل کی لی تھی۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میرے تمام ساتھی کھلاڑی جانتے ہیں کہ مجھ سے میرے کپتانوں نے کس طرح کا رویہ رکھا اور اس میں سرفہرست عظیم بلے باز حنیف محمد اور انکے بھائی وزیر محمد ہیں جنہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میں دورہ آسٹریلیا کے بعد دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل سکوں۔

انہوں نے کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ پر جب میں نے ویلنگٹن کیخلاف میچ میں صرف 16رنز دیکر 7 وکٹیں لیں تو انہیں صرف 53 رنز پر 10 اوورز کے اندر ڈھیر کردیا تھا لیکن ہر کسی کو حیرت ہوئی کہ دو دن بعد اسی مقام پر کھیلے گئے میچ میں مجھے پاکستانی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا، نہ ہی اس سیریز میں نیوزی لینڈ کیخلاف کھیلے گئے بقیہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں مجھے ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

انہوں نے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ 1963ء میں انگلینڈ کا دورہ کرنیوالی پاکستان ایگلٹس کا میں بھی رکن تھا، میں نے 3 اوورز میں 5 وکٹیں لیں لیکن کپتان وزیر محمد نے مجھے مانچسٹر میں لنکا شائر کیخلاف دوبارہ باؤلنگ نہ دی، بعدازاں سیکریٹری ایم سی سی ہوورڈ نے میرے منیجر سے کہا کہ آج فاروق میچ میں ٹرومین سے ایک گز تیز باؤلنگ کر رہے تھے۔

انہوں نے مایوس کن انداز میں کہا کہ یہ اور اس طرح کے دیگر رویوں سے دلبرداشتہ اور مایوس ہو کر انہوں نے نوجوانی میں کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی خطرناک باؤنسر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی کرکٹ کی عروج کے دنوں میں ان کی باؤنسر بہت تباہ کن تھی اور بہت سے بہترین بلے بازوں کیلئے اسے کھیلنا ناممکن تھا، قائداعظم ٹرافی کے میچ میں انکا باؤنسر وزیر محمد کے منہ پر لگا تھا جس سے انکے سامنے کے چاروں دانت ٹوٹ گئے تھے اور ہونٹوں پر 10 ٹانکے آئے تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 1969ء میں قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں انکا سامنا کرتے ہوئے حنیف محمد تیسری ہی گیند پر ان سوئنگ یارکر پر باؤلڈ ہو گئے تھے، سر ڈان بریڈ مین، ظہیر عباس، امتیاز احمد سمیت دیگر بین الاقوامی کرکٹ کی ہستیاں انہیں اس وقت دنیا کا تیز ترین باؤلر اور ویسٹ انڈیز کے چارلی گریفتھ سے بھی تیز سمجھتی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ صف اول کے متعدد بلے باز انکے باؤنسر سے ڈرتے تھے لیکن سابق ٹیسٹ بلے باز محمد الیاس ان چند کھلاڑیوں میں سے تھے جو بہتر تکنیک کی وجہ سے انکے باؤنسر کا سامنا کر پاتے تھے، جب 1963ء میں کامن ویلتھ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو گریفتھ کے خلاف ہُک کرنیوالے بہترین بلے باز ثابت ہوئے تھے۔

فاروق نے بتایا کہ مذکورہ دورے میں انہوں نے روہن کنہائی کو اپنے باؤنسر سے زمین بوس کردیا تھا، بعدازاں کمنٹیٹرز نے کہا تھا کہ میں گریفتھ سے بھی تیز باؤلنگ کرتا ہوں، میرے خیال سے میں اس وقت 110-115 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کرتا تھا۔ سابق فاسٹ باؤلر نے بتایا کہ حتیٰ کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران سر ڈان بریڈ مین نے بھی بحیثیت فاسٹ باؤلر ان کو سراہا تھا اور ایڈیلیڈ میں سنچری پر تعریف بھی کی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انکا جارحانہ رویہ ان کے مختصر بین الاقوامی کیریئر کی وجہ ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہر فاسٹ باؤلر کو جارح مزاج ہونا چاہیے، یہ ٹیم مینجمنٹ کا کام ہے کہ وہ فاسٹ باولرز کو احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہی سیاست اب بھی جاری ہے لیکن یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آل راؤنڈرعمران خان ہمارے وزیراعظم ہیں اور امید ہے کہ انکے زیر سایہ کرکٹ بہتر ہو گی، تاہم اگر وہ بھی ہمارے کرکٹ کے نظام کو ٹھیک نہ کر سکے تو صرف خدا ہی ہماری کرکٹ بچا سکے گا۔

سابق کرکٹر نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کرکٹ تباہ ہو گی اور اسے ختم کرنے کے بجائے ڈیپارٹمنٹس کو انڈر 19 اور انڈر16 ٹیمیں بنانے کی ہدایت کرنی چاہیے تھی کیونکہ انکے پاس پیشہ ورانہ انداز میں کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کا نظام موجود ہے جو ایل سی سی اے اور کے سی سی اے کے کے پاس نہیں، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ پاکستان کرکٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسے ہر حال میں بحال ہونا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ قومی ٹیم اسوقت بین الاقوامی کرکٹ میں اوسط درجے کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ہمیں یہ توقع نہیں کرنہی چاہیے کہ یہ جلد ورلڈ کلاس ٹیم میں تبدیل ہو جائیگی، ہمارے پاس کوئی بھی تیز رفتار باؤلر نہیں، نسیم شاہ تیز ضرور ہیں لیکن اگر معیار کی بات کی جائے تو وہ ایک اوسط درجے کے باؤلر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *