عمر خیام کی تاریخ

بنی نوع انسانوں کو دنیا کی بے ثباتی سے خبر دار کرنا تمام ترعظیم شاعروں کا سب سے بڑا مقصد تھا․․․․سعدی․․․․․حافظ․․․․ابن یامین․․․․․ناصر خسرہ․․․․․عمر خیام اور شہابی تمام کے تمام نے اس موضوع کو زیر بحث لایا ہے ۔عمر خیام نے نیشاپور میں جنم لیا تھا ۔وہ ایک خیمہ ساز کے بیٹے تھے۔ان کے والد ایک شریف النفس تاجر تھے(عربی میں خیمہ ساز کو خیام کہتے ہیں)وہ فارسی کے ایک قابل ذکر شاعر تھے ۔

ان کا شمار 11ویں صدی کے نمایاں ترین فارسی شعرا میں ہوتا ہے ۔انہوں نے فلسفے/ریاضی․․․․․اور علم فلکیات کا مطالعہ سر انجام دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادب اور تاریخ کا مطالعہ بھی سر انجام دیا تھا۔ وہ پہلے ہی ایک شہرت یافتہ سائنس دان تھے جبکہ 467الہجری میں سلجوق حکمران ملک شاہ نے اپنی نئی قائم کردہ مشاہدہ گاہ میں مدعو کیا تاکہ وہ کیلنڈر کی اصلاح میں معاونت سر انجام دیں ۔

انہوں نے اپنی زندگی میں بطور ایک ریاضی دان اور ماہر فلکیات عظیم ترین شہرت پائی تھی ۔وہ طاقتور شہزادوں کی حمایت سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔عمر خیام ایک عالم فاضل ہستی تھے ۔انہیں محبت الحق کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔انہوں نے اپنی نظموں میں آزاد سوچوں کا اظہار کیا تھا ۔وہ ایک قابل ذکر یادداشت کے حامل تھے ۔انہوں نے اصفہان میں کئی ایک کتب سات مرتبہ پڑھی تھیں اور مابعد انہوں نے نیشاپور میں انہیں تقریباً حرف بہ حرف تحریر کیا تھا۔

انہیں منافقت سے نفرت تھی۔عام قاری ان کے کلام کو توقیر بخشتا تھا۔

عمر خیام کا فلسفہ زندگی


عمر خیام کے فلسفہ زندگی کے مطابق ماضی اور مستقبل کوئی معنی نہیں رکھتا․․․․․انسان کو اپنے ماضی اور مستقبل کے لئے کچھ نہیں کرنا۔جو کچھ بھی موجود ہے․․․․․وہ حال میں موجود ہے․․․․کھاؤ․․․․․پیو اور خوش رہو اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

شارستانی (Shahristani) جو 1086ء تا 1153ء حیات تھے․․․․․انہوں نے اپنی کتاب․․․․․․کتاب الملال ولنہال میں بیان کیا ہے کہ عمر خیام․․․․خراساں کا امام اور اپنے دور کا عظیم ترین مفکر تمام تر یونانی تعلیمات سے بخوبی آراستہ تھا۔

دنیا کی بے ثباتی

جیسا کے پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ بنی نوع انسانوں کو دنیا کی بے ثباتی سے باخبر کرنا عظیم شاعروں کا عظیم مقصد رہا ہے۔

سعدی․․․․․حافظ ․․․․ابن یاسین․․․․․ناصر خسرہ․․․․․عمر خیام اور شہابی بھی انہیں شاعروں میں شامل تھے،لیکن حقیقی آغاز عمر خیام سے ہوا تھا اور انہوں نے اسے اس قدر وسعت سے نوازا کہ سعدی․․․․حافظ اگر چہ وہ بھی عظیم شاعر تھے لیکن وہ بھی عمر خیام کی تعلیمات کی پیروی کرتے دکھائی دیتے تھے۔ یہ موضوع نہ صرف ہمیں سبق سکھاتا ہے بلکہ ہمیں اس قابل بھی بناتا ہے کہ ہم ابن خیام کی شاعرانہ ذہانتوں کا اندازہ کر سکیں ۔

انہوں نے سینکڑوں مرتبہ اس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی تصوراتی قوت نے اسے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور ہر مرتبہ یہ موضوع ایک نئی جدت کے ساتھ ہمارے دلوں کو چھوتا ہے۔

خیام نے جو کچھ مشاہدہ سر انجام دیا تھا۔وہ یہ تھاکہ دنیا کے عظیم انسان دن رات سازشوں میں مصروف تھے اور اپنی غیر قانونی خواہشات کی تکمیل کی خاطر ہر جائز و ناجائز حربے استعمال کرتے تھے لیکن وہ چیزیں کس قدر ناپائیدار تھیں جن کو حاصل کرنے کی خاطر وہ اس قدر جدوجہد سر انجام دیتے تھے،اور اس قدر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے انہیں حاصل کرتے تھے۔

ایک شخص آج وزیراعظم ہو سکتا ہے․․․․․ کل آپ اسے دربدر بھیک مانگتے ہوئے دیکھیں گے۔

”ایک شخص جو کل تک ایک سلطنت کا بادشاہ تھا آج وہ ایک بھکاری ہے جو مسجد کے دروازے پر کھڑا ہے“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *