تاریخ منصور الہلج

حسین ابن منصور الحلاج بغداد کے ایک صوفی بزرگ تھے۔ وجد کے لمحات کے دوران وہ خدا کی موجودگی کی بنا پر جذبات میں اس قدر بے قابو ہوئے کہ وہ اپنی ذاتی شناخت بھی فراموش کر گئے،اور انہوں نے خدا میں مدغم ہونے کا تجربہ حاصل کیا اور انہوں نے انا الحق،میں خدا ہوں کا نعرہ بلند کیا۔ چونکہ انہوں نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا لہٰذا ان کے خلاف فتویٰ دیا گیا کیونکہ بہت سے مسلمان اس قسم کے بیان کو انتہائی غیر مناسب تصور کرتے ہیں۔

ان کو لوگوں کے ایک بڑے مجمعے کی موجودگی میں موت کی سزا سے نوازا گیا۔اس سے قبل انہیں عرصہ دراز تک بغداد میں قید رکھا گیا تھا (911تا922بعد از مسیح) الحلاج کی تعلیمات کی بنیاد اخلاقی اصلاح تھی۔ انہوں نے حالت وجد میں انا الحق ․․․․میں خدا ہوں کا نعرہ بلند کیا لیکن عام مسلمانوں کی نظر میں اور کچھ صوفیا کرام کی نظر میں یہ شرک تھا۔

الحلاج نے جنوبی ایران میں جنم لیا تھا۔

انہوں نے اپنی نوجوانی کا دور بصرہ میں گزارا اور بصرہ سے الجلاج بغداد کی جانب روانہ ہوئے۔ بغداد 9ویں صدی کے آخر میں صوفیانہ تعلیم کا مرکز تھا اور وہاں پر نامور صوفی بزرگ موجود تھے۔ الحلاج نے ایک صوفی بزرگ کی دختر سے شادی کی۔ وہ اپنا پہلا حج ادا کرنے کے لئے مکہ شریف روانہ ہوئے اور جب وہ حج بیت اللہ کے بعد واپس آئے تب ایک روایت کے مطابق ان کی زندگی کا فیصلہ کن واقعہ رونما ہوا۔

انہوں نے جب الجنید کے دروازے پر دستک دی تب ان سے پوچھا گیا کہ دروازے پر کون ہے ․․․․ انہوں نے جواب دیا․․․․․․انا الحق“(میں خدا ہوں)۔

الجنید کے ساتھ جھگڑا کرنے کی وجہ سے یا دیگر وجوہات کی بنا پر ․․․․الحلاج نے صوفیانہ چوغہ اتار پھینکا اور امیر المکی اور الجنید جیسے روحانی اکابرین سے ناطہ توڑ لیا اور جگہ جگہ سفر طے کرتے ہوئے تبلیغ کے کام کا آغاز کیا۔

وہ عریبیہ میں گھومے پھرے،ایران اور خراساں کے راستے وسطی ایشیا میں گھومے پھرے اور اس کے بعد اپنے چار ہزار مریدوں کے ہمراہ دوسرا حج ادا کرنے کے لئے روانہ ہوئے ۔اس کے بعد انہوں نے ہندوستان برصغیر کا رخ کیا اور کئی ایک صوفیا کرام سے ملاقات بھی کی۔ ان کے بہت سے مرید تھے ۔وہ حلاج الاسرار کے نام سے مشہور ہو چکے تھے۔

گجرات سے وہ سندھ اور پنجاب سے ہوتے ہوئے ترفان (Turfan) جا پہنچے غالباً براستہ کشمیر۔

بغداد واپسی پر عام لوگوں کے علاوہ صوفیا کرام نے بھی ان کا استقبال کیا اور اس کے بعد انہوں نے تیسرا حج ادا کیا اور بالآخر 913بعد از مسیح بغداد میں انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔

انہیں خوفناک طریقے سے موت کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاریخ نے کسی بنی نوع انسان کو قتل کرنے کا اس قدر دہشت ناک منظر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ الحلاج اپنی زنجیروں میں رقص کرتے ہوئے مقتل گاہ تک پہنچے تھے۔

پہلے ان کے ہاتھ کاٹے گئے․․․․․اس کے بعد ان کے پاؤں کاٹے گئے․․․․اس کے بعد ان کی آنکھیں نکالی گئیں․․․اس کے بعد ان کی زبان کاٹی گئی جس نے انا الحق کا نعرہ بلند کیا اور آخر میں ان کا سر ان کے جسم سے جدا کیا گیا۔یہ دہشت ناک منظر دیکھنے کے بعد بھی ہجوم کا غم و غصہ رفع نہ ہوا۔لہٰذا ان کی لاش کو جلایا گیا اور راکھ میں تبدیل کر دیا گیا اور اس راکھ کو دریا میں بہا دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ان کے خون کا ہر قطرہ انا الحق کا نعرہ بلند کر رہا تھا۔

یہ قابل ذکر ہستی مابعد آنے والے درویشوں اور صوفیا کرام کی دل پسند ہستی بن گئی اور اس ہستی نے ایک ہیرو کا روپ دھار لیا۔بالخصوص ایرانی صوفی شاعر انتہائی جوش․․․․․․جذبے اور ولولے کے ساتھ ان کا ذکر کرتے تھے۔

ہندوستانی مفکر علامہ محمد اقبال نے بھی جاوید نامہ (1932ء) میں ان کی تعلیمات کو سراہاہے اور ان کی تعریف و توصیف سر انجام دی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد الحلاج نے عربوں میں نمایاں مقبولیت پائی۔ ہندوستانی برصغیر اور ایران میں بھی انہوں نے مقبولیت پائی اور ایران میں محرم الحرام میں شیعہ جلوسوں میں ان کا نام ابن منصور حسین ابن علی کے نام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *