تاریخ ابن سینا (یلسینا)

وہ اسلام کے عظیم فلسفیوں میں سے ایک تھے ۔انہوں نے فلسفے کے مکمل نظام کی تعمیر اور تشریح سر انجام دی تھی۔ ایک ایسا نظام جو اسلام کی فلسفیانہ روایات پر صدیوں تک غالب رہا․․․․․․وہ ہستی ابن سینا کی ہستی تھی۔

ابن سینا نے بلخ کے بخارا ضلع میں افشانا کے مقام پر 370الہجری میں جنم لیا تھا۔ اس وقت جب ابن منصور کا دور تھا(وفات 976الہجری) ابو علی،الحسین بن عبداللہ بن سینا اسماعیلی پراپیگنڈہ سے متاثر ہوئے تھے ۔

ان کے والد عبداللہ اپنے گاؤں سے بخارا منتقل ہو گئے تھے ۔ان کا گھر عالم فاضل لوگوں کے باہم مل بیٹھنے کے لئے مشہور تھا، اور بچپن سے ہی ابن سینا نے ان عالم فاضل لوگوں سے فیض حاصل کیا۔ بخارا میں انہیں قرآن پاک سکھانے والے اساتذہ کے حوالے کر دیا گیا تھا اور دس برس کی عمر میں ابن سینا نے قرآن پاک کا علم حاصل کر لیا تھا۔

انہوں نے اسلامی قانون میں بھی دسترس حاصل کی ۔اس کے بعد طب کے میدان میں دسترس حاصل کی اور اس کے بعد مابعد الطبیات کے میدان میں دسترس حاصل کی۔ایک وفد سفر اور ایک سائنس دان کی حیثیت سے ان کی شہرت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔

اگر چہ وہ اسماعیلی اصول عقیدہ سے آشنا تھے لیکن انہوں نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی دانشورانہ آزادی اور خود مختاری کی خدمات ان کی غیر معمولی ذہانت اور یادداشت نے سر انجام دی اور 14برس کی عمر میں ہی انہوں نے اپنے اساتذہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

21برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی فلسفیانہ کتاب تحریر کی۔ اگرچہ فطری سائنس اور طب کے میدان میں ان کا کوئی استاد نہ تھا لیکن اس کے باوجود بھی مشہور معالجین ان کی ہدایات کے تحت کام کر رہے تھے ۔اگر چہ اس وقت ان کی عمر محض 16برس تھی ۔خراساں کا امیر شدید علالت کا شکار تھا۔ ابن سینا نے ان کا علاج کیا اور وہ رو بصحت ہو گیا ۔لہٰذا انہیں شہزادے کی لائبریری میں استفادہ حاصل کرنے کی اجازت فراہم کر دی گئی۔

18 برس کی عمر میں وہ اس دور کی تمام سائنسوں پر دسترس حاصل کر چکے تھے۔
ان کے باپ کی وفات نے ان کی زندگی کا تمام تر نمونہ تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔ لہٰذا انہیں انتظامیہ میں شمولیت اختیار کرنی پڑی تاکہ اپنا روزگار کما سکیں ۔اس کی صلاحیتوں کو سراہا گیا اور طبی معاملات میں ان کی مشاورت کے حصول کے بعد شہزادہ سیاسی معاملات میں بھی ان کی مشاورت سے استفادہ حاصل کرنے لگا۔

ان کے مشورے کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا لیکن لوگ ان سے حسد کرتے تھے اور انہیں اپنے دشمنوں کی وجہ سے اکثر اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ایک مواقع پر انہیں چھپنا پڑا اور انہوں نے طبی مشاورت کے سہارے اپنا روزگار کمانے کی کوشش کی۔ انہیں قید میں بھی ڈالا گیا لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور تقریباً 14برس تک قدرے سکون کے ساتھ اصفہان کے دربار کے ساتھ وابستہ رہے اور ہمدان میں شہزادے الہٰ الدولہ ( ALA-AL-DOWLA)کے حملے کے دوران وفات پائی۔

ان کو اسی مقام پر دفن کیا گیا اور مابعد ان کی یادگار تعمیر کی گئی۔
نوجوانی کے دور کے دوران وہ تمام دن ریاست کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اور رات کے وقت وہ اپنے عظیم کام پر مشقت سر انجام دیتے تھے۔ وہ کبھی بھی محفوظ نہ رہے تھے اور انہیں اکثر بھاگ دوڑ کے لئے مجبور کر دیا جاتا تھا کبھی وہ گھوڑے کی پشت پر بیٹھے لکھنے میں مصروف ہوتے تھے اور کبھی جیل میں بیٹھے لکھنے میں مصروف ہوتے تھے اور ان کے حوالے کا محض ایک ہی ذریعہ تھا اور وہ ذریعہ ان کی یادداشت تھی۔ارسطو کی منطق نا کافی دکھائی دیتی تھی کیونکہ اس کا اطلاق اس لحاظ سے نہیں کیا جا سکتا تھا جو زندگی کے قریب تر ہو۔ ان کی کتاب الانصاف جس میں 28,000سوالات کی تحقیق و تفتیش سر انجام دی گئی تھی۔کتاب النجات․․․․․یہ کتاب انہوں نے جزوی طور فوجی مہمات کے دوران تحریر کی تھی جن کے دوران وہ الہٰ الدولہ کے ہمراہ میدان جنگ میں موجود ہوتے تھے۔ مہم کے دوران انہوں نے کتاب العشرت ول تنبیہات تحریر کی تھی۔انہوں نے الحکمت،المشرقیہ بھی تحریر کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *