ابن عربی کی تاریخ

نامور مسلم صوفی فلسفی جس نے صوفیانہ اسلامی سوچ کو فلسفے کے رنگ میں رنگا وہ ابن عربی تھے۔انہوں نے 1164 بعد از مسیح میں موریشیا (Murcia)․․․․․ویلنشیا(Valencia)․․․․․․جنوب مشرقی اسپین میں جنم لیا تھا۔ جب مسلم غلبہ اپنا دم توڑ رہا تھا لیکن اہسپانوی دانش ورانہ زندگی ہنوز آب و تاب کی حامل تھی۔ اسپین کے مسلمانوں نے یونانیوں کی بہت زیادہ دانشوری اہل یورپ کو منتقل کی ،تھی اور یورپ کی تہذیب ان کے فلسفیانہ اثرات سے بھی ہمکنار ہوئی تھی۔

ابو بکر محمد ابن علی محی الدین الحتامی،الاندلسی جنہیں عام طور پر ابن عربی کہا جاتا ہے․․․․․․ان کا تعلق ایک متقی․․․․․پارسا․․․․پرہیز گار․․․․․مذہبی خاندان سے تھا اور صوفیا کرام میں دلچسپی اس خاندان کی روایت تھی۔

اس وقت سولی(Seville) اسلامی ثقافت اور اسلامی تعلیمات کا ایک غیر معمولی مرکز تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی مقام پر حاصل کی۔

انہوں نے تیس برس تک اسی مقام پر اقامت اختیار کی اور روایتی اسلامی سائنسوں کا مطالعہ سر انجام دیا۔ کہا جاتا ہے کہ عالم نوجوانی کے دوران وہ کئی ایک گورنروں کے ”کاتب“ بھی رہے تھے ۔ابتدائی عمر میں ہی اپنی علالت کے دوران وہ ایک الہام سے لطف اندوز ہوئے جس نے ان کی زندگی کی راہیں تبدیل کر دیں اور وہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور کو دور جہالت قرار دینے لگے۔

انہوں نے بہت زیادہ سفر طے کیا تھا اور ان میں سے ایک سفر کے دوران ان کی ملاقات ڈرامائی انداز میں فلسفی ابن رشد سے ہوئی جو ارسطو نواز فلسفی تھے ۔وہ ان کے والد کے نزدیکی دوست تھے ۔لہٰذا انہوں نے ابن عربی کا امتحان لینے کی ٹھانی کیونکہ وہ اس نوجوان کی غیر معمولی فطرت کے بارے میں سن چکے تھے جو ہنوز کا ایک لڑکا تھا۔ ابتدا میں ہی محض چند الفاظ کے تبادلے کے بعد کہا جاتا ہے کہ اس لڑکے کی صوفیانہ گہرائی نے اس بوڑھے فلسفی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کا رنگ زرد پڑ گیا اور انہوں نے کانپنا شروع کر دیا۔

1198ء میں جبکہ وہ موریشیا میں ہی مقیم تھے کہ انہیں الہام ہوا اور انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اسپین کو خیر باد کہہ دیں اور مشرق کی جانب روانہ ہوں۔لہٰذا انہوں نے مشرق کا رخ کیا اور اس کے بعد کبھی اپنی آبائی سر زمین پر واپس نہ آئے۔ پہلے وہ مکہ شریف جا پہنچے۔

وہ دو برس تک مکہ شریف میں مقیم رہے۔ انہوں نے کثرت کے ساتھ طواف کیے۔ مطالعہ سر انجام دیا․․․․․․مراقبے سر انجام دیئے اور بہت سے صوفیانہ الہاموں اور خوابوں سے لطف اندوز ہوتے رہے،اور اسی مقام سے انہوں نے اپنے تحریری کاموں کا آغاز کیا۔

یہاں پر انہوں نے درج ذیل کتب تحریر کیں۔
تاج الرسائل(Tadj-Al-Rasail)
رخ القدس(Ruh-Al-Quds)
اور عظیم الفتوحات المکیہ(Al-Futuhat-Al-Makkiyya) کا آغاز کیا۔

الفتوحات المکیہ 560ابواب پر مشتمل ہے اور اسلام کی تمام تر باطنی سائنسوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے جیسا کہ ابن عربی نے انہیں سمجھا اور ان کا تجربہ کیا۔

ابن عربی کے نزدیک”فنا“کا مقصد حقیقی اور سچے علم کا حصول ہے اور ماسوائے خدا ہر چیز سے دست برداری اختیارکرنے کا نام ہے۔

اس علم کے حصول کے بعد خدا سے آشنائی پیدا ہوتی ہے اور اس کا مطلب خدا بن جانا نہیں ہے بلکہ خدا کی پہچان ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ خدا کے ساتھ ملاپ کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ خدا تک پہنچا جائے۔خدا کے ساتھ ملاقات کی جائے بلکہ اس تعلق سے آشنائی حاصل کرنے کا نام ہے جو ہمیشہ سے قائم ہے۔ انفرادی روح کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ ہے وہ خدا کے ساتھ اپنے ملاپ کے احساس کے لئے بیداری حاصل کرے۔

”یہ حقیقت کہ میں اپنے جگر یا اپنے دانتوں سے آشنا ہوں ۔یہ حقیقت اس امر کی نشاندہی نہیں کرتی کہ مجھے ان کی تلاش کے لئے اپنے آپ سے باہر نکلنا چاہیے“

ابن عربی یہ کہتے ہیں کہ:۔

”انسان کبھی خدا نہیں بن سکتا اور خدا کبھی انسان کے روپ میں جلوہ گر نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ ایک ہیں۔ اگرچہ ہم اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ محض حقیقی صوفی بزرگ ہی اس سے آشنائی حاصل کر سکتا ہے“

وحد وجود
وحد وجود کے نظریے کے حاملین یہ کہتے ہیں کہ حقیقی وجود محض خدا کا ہے اور اس کے علاوہ ہر شے کا وجود اعتباری اور موہوم ہے اور انسان اور دنیا دونوں خدا کے نور کے پر تو ہیں اور ہم ان کے خیالی وجود کو حقیقی تصور کرتے ہیں۔وہم اور اعتبار کے ان پردوں نے ہمیں معرفت ذات سے محروم کر رکھا ہے۔ در حقیقت خدا کائنات اور کائنات خدا ہے۔لہٰذا انسان کی تمام کوششوں کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہستی،وجود اور خودی کو”وحدت“میں گم کرتے ہوئے اس وجود واحد کو پالے۔
ابن عربی وہ فلسفی ہیں جنہوں نے وحدت وجود کے اس نظریے کو اسلامی تصوف کا ایک لازمی حصہ قرار دیا اور وہ اسلامی ممالک میں اس نظریے کے فروغ کا باعث بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *