تاریخ بایزید البستامی

چونکہ وہ اس قسم کے کلمات حالت وجد کے دوران استعمال کرتے تھے لہٰذا علماء کرام نے ان کا محاسبہ سر انجام دیا

چونکہ وہ اس قسم کے کلمات حالت وجد کے دوران استعمال کرتے تھے لہٰذا علماء کرام نے ان کا محاسبہ سر انجام دیا اور وہ سات مختلف مواقع پر بسطام سے جلا وطن کیے گئے اور ان کی یہ جلا وطنی مختصر عرصے پر محیط تھی۔ تاہم ان دعوؤں کی وجہ سے وہ صوفی ازم کی تاریخ میں شہرت کے حامل بن چکے تھے اور بخوبی جانے پہچانے جاتے تھے وہ اولین ہستی تھے جنہوں نے اپنے صوفیا تجربہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج (رات کا سفر) کی دوبارہ تعمیل سر انجام دی اور ان کی خدا کے تخت تک رسائی (معراج) کی داستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خواب میں وقوع پذیر ہوئی۔

”میں نے دیکھا کہ میری روح کو آسمانوں میں لایا گیا تھا ۔اس نے کسی چیز کی جانب نہ دیکھا تھا اگر چہ جنت اور دوزخ اس کے سامنے لائی گئی تھی اور تب میں ایک پرندہ بن گیا اور میں نے خود مختار اور مطلق انصاف کی فضا میں پرواز جاری رکھی حتیٰ کہ میں تطہیر اور طہارت کے حلقے میں داخل ہو گیا اور میں نے ابدیت کے میدان کو دیکھا آخرت کے میدان کو دیکھا اور میں نے توحیداور وحدت کے درخت کو دیکھا“

”میرے خدا ․․․․اپنی انا پرستی کے ساتھ میں تجھے نہیں پا سکتا اور میں اپنے نفس سے فرار حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

مجھے کیا کرنا چاہیے؟

خدا نے فرمایا کہ:۔

”اے ابو یزید میرے محبوب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب دیکھو ان کے پاؤں کی گرد اپنی آنکھوں میں لگاؤ اور مسلسل ان کی پیروی سر انجام دیتے رہو۔“
اس سے ملتی جلتی ایک اور حکایت ابو یزید سے منسوب ہے۔
”ایک مرتبہ اس نے مجھے اوپر اٹھایا اور اپنے سامنے بیٹھا لیا اور مجھ سے فرمایا کہ:۔

”اے ابو یزید میری حقیقی مخلوق تم مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہو“
میں نے عرض کی!
”مجھے وحدت کی توقیر بخشی جائے اور مجھے مقام وحدت تک اٹھایا جائے تاکہ جب مخلوق مجھے دیکھے تب یہ کہے کہ!
”ہم نے تمہیں دیکھا ہے اور اگرچہ میں وہاں قطعاً موجود نہ ہوں“
یہاں پر ہم فنافی اللہ کا مقام دیکھتے ہیں اور یہ مقام ابو یزید اور ان کے بعد آنے والے صوفیا کرام کے لئے صوفی تھیوری میں ایک مرکزی مقام کا حامل رہا۔

بایزید بسطامی نے وجد طاری ہونے کے دوران فرمایا کہ:۔
”میں وہ بحر ہوں جس کی گہرائی کا کوئی دروازہ نہیں جس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور جس کا کوئی اختتام نہیں ہے“
”میں خدا کا تخت ہوں․․․․․میں خدا کا حکم ہوں․․․․میں
جبرائیل ہوں․․․․․میکائیل ہوں․․․․اسرافیل ہوں․․․․میں
ابراہیم ہوں․․․․موسیٰ ہوں اور یسوع مسیح ہوں“
انہوں نے پر ستش کا مطالبہ بھی کیا!
”میں خدا ہوں،کوئی خدا نہیں ہے ماسوائے میرے ،لہٰذا میری پرستش کرو“
تاہم یہ کم تر اسرار اور بھید ہیں:۔

”بایزید کسی قدر عظیم تر اور عجیب و غریب اسراروں اور بھیدوں کے حامل تھے اور انہوں نے ان اسراروں اور بھیدوں کو ظاہر نہ کیا تھا“
انہوں نے فرمایا تھا کہ:۔
”اگر میں اپنے عظیم تر تجربات کے بارے میں بات کروں گا۔تم ان کو سننے کی بابت برداشت نہ کر سکو گے۔لہٰذا میں نے تمہیں کم تر نوعیت کے حامل اسرار اور بھید بتائے ہیں“
بایزید بسطامی نے بیان کیا:۔

”میں خدا“”ناخدا“کی جانب گیا اور ایک”میرے“لئے چلایا:۔
جب کسی نے درویشوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پوچھا کہ:۔
”کیا بایزید یہاں ہے؟“
اس کا جواب․․․․”کیا ماسوائے خدا کوئی یہاں ہے۔“
درویش (بایزید بسطامی) کا روحانی سفر جیسا کہ جلال الدین رومی کی مثنوی (جلد نمبر 4) میں بیان ہے ایک دلچسپ احاطہ پیش کرتا ہے!
”ایک مرتبہ وہ مشہور درویش بسطامی اپنے پیروکاروں کے پاس آیا اور یہ کہنے لگا کہ میں بذات خود خدا ہوں
روحانی تحائف کا حامل وہ شخص اس کے علاوہ آشکارا ہوا
اور کہا”میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے․․․․․سب پرستش کرو“
اگلی صبح جب اس کی وجد کی حالت رخصت ہو چکی تھی
اس کے پیروکاروں نے کہا کہ:۔آپ نے یہ اور یہ کہا تھا جو
بے دینی،دہریہ پن اور کفر پر مشتمل تھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ:۔
اگر دوبارہ میں یہ کچھ کہوں:۔
”تم مجھے اپنے چاقوؤں کے ساتھ ہلاک کر دینا“
خدا مجھ سے آزاد اور خود مختار ہے۔میں جسم میں ہوں
اگر میں دوبارہ یہ سب کچھ کہوں تم مجھے ہلاک کر دینا۔“
جب اس مقدس شخص نے یہ عندیہ دیا
اس کے ہر ایک پیروکار نے اپنا چاقو تیار کر لیا
دوبارہ اس پر جب یہ کیفیت طاری ہوئی
اور اس کا فرمان اس کے ذہن سے نکل گیا
بایزید نے اس قسم کے کلمات ادا کرنے شروع کیے
اور اس نے پہلے سے بڑھ کر کفریہ کلمات ادا کیے
اس کے پیرو کار خوف وہراس کے ساتھ پاگل دکھائی دینے لگے
اور انہوں نے اس مقدس جسم میں اپنے چاقو پیوست کر دئیے
جس کسی نے بھی شیخ کے جسم پر چاقو کے ساتھ ضرب لگائی
اس کے اپنے ہی جسم میں زخم لگے اور شیخ محفوظ رہا
پیروکار مرید زخمی ہوئے اور خون میں نہا گئے
جس کسی نے بھی شیخ کے گلے پر زخم لگایا۔
اس کا اپنا گلا کٹ گیا
جس نے اس کی چھاتی سینے پر زخم لگایا
اس کا اپنا سینہ زخمی ہوا اور اس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا۔
البسطامی نے صوفی ازم کو نئے نظریات عطا کیے جو صوفیانہ تجربے کے اظہار کے لئے بامعنی ثابت ہوئے اور انہوں نے پہلے سے موجود کچھ صوفی آئیڈیاز کی تشریح بھی سر انجام دی۔وہ غالباً اپنے دور کے عظیم ترین صوفی بزرگ تھے ۔ابویزید اور جنید بغدادی سیادت طائفہ کہلائے، کمیونٹی کے سربراہ،”برادری کے سربراہ“9ویں صدی بعد از مسیح کے آخری حصے میں اور 10ویں صدی بعد از مسیح کے آغاز میں وحدت الو جود کا عنصر پہلی مرتبہ قطعی طور پر منظر عام پر آیا۔یہ ایک قابل ذکر امر ہے کہ بایزید اور جنید دونوں ایرانی تھے اورغالباً انہوں نے ہی اس عنصر کو صوفی ازم میں شامل کیا تھا کیونکہ یہ آئیڈیا ان کے ملک میں موجود تھا ۔اس لئے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ ایرانی صوفی بزرگ ہی تھے جنہوں نے صوفی ازم میں وحدت الوجود کے عنصر کو شامل کیا تھا۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے۔ جیسا کہ صوفی ازم کی دیگر صورتوں سے بھی عیاں ہے ۔تو کل یا وحدت الوجود کی جانب پیش قدمی نہ ہی طوالت کی حامل ہے اور نہ ہی مشکلات کی حامل ہے۔ یہاں حسین بن منصور،الحلاج کے بارے میں ذکر کرنا خارج از بحث نہ ہو گا وہ 10 ویں صدی کے آغاز کے صوفی بزرگ تھے۔ انہیں 922بعد از مسیح میں خلیفہ المقتدر کے عہد میں سزائے موت سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے انا الحق یعنی میں خدا ہوں کا نعرہ بلند کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *