تاریخ الکندی

وہ ایک نامور اور عالمگیر شہرت کے حامل مفکر اور فلسفی تھے۔ ان کا دور سائنس اور ”کلام“ کا دور تھا۔ تراجم کا دور،وہ خلیفہ المامون کے ساتھی تھے۔ ان کا کام تقریباً 270موضوعات پر مشتمل ہے اور یہ تمام تر سائنسوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ علم نجوم ․․․․شیشے کی تیاری ․․․․جیولری․․․․․․اسلحہ سازی اور پرفیوم وغیرہ کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔

وہ ارسطو کے ما بعد اطبیعات کے کام سے متاثر تھے ۔الکندی کے بقول ”سچائی جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کرنا چاہیے“اور فلسفیوں کے بیانات کا ازسر نو معائنہ سر انجام دینا چاہیے اور ان کی تکمیل سر انجام دینی چاہیے۔ وہ ان لوگوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے تھے جو فلسفے کے خلاف تھے اور وہ لوگ مذہب کے نام پر فلسفے کو اپنے حملے کا نشانہ بناتے تھے ۔

ان کے بقول ایسے لوگ بذات خود بے مذہب ہیں۔

الکندی کے بقول علم کئی ایک ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اور اس میں ہنوز بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے ۔انہیں قدیم سائنسوں کے ساتھ بھی آشنائی حاصل تھی اور وہ تمام تر اسلامی فلسفیوں سے بڑھ کر ارسطو کے قریب تھے اور انہوں نے یونانی،ایرانی اور ہندوستانی دانشوری کی کئی ایک شاخوں کا گہرائی میں مطالعہ سر انجام دیا تھا۔

انہوں نے اپنے کام میں قانون کے اصول اور استد لالی سائنسوں کے اصول بھی شامل کیے تھے اور انہوں نے ”توحید“ پر ایک مقالہ بھی تحریر کیا تھا۔

الکندی نے تقریباً 850بعد از مسیح میں کوفہ میں جنم لیا تھا۔ انہوں نے بصرہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ بغداد میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کا تعلق عرب کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ انہوں نے خلیفہ المامون (813تا833بعد از مسیح)اور المنتظین (Al-Muntazin) ․․․․․833تا842بعد از مسیح کے دور میں عراق میں نام کمایا۔

وہ پہلے غیر معمولی اسلامی فلسفی تھے جنہیں”عربوں کے فلسفی“ کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ ان کی ادبی سر گرمیوں کا تعلق ابتدائی اور زیادہ اعتدال پسند دور سے ہے ،اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 874بعد از مسیح میں وفات پائی تھی۔

الکندی نے ریاضی اور علم نجوم کے میدانوں میں شہرت پائی تھی۔ ان کی شہرت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب انہوں نے ارسطو کی کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ پیش کیا جسے یونانی میں تھیولاجیا (Theologia) کہا جاتا تھا جس میں ربابیات (Rubibiyat) پر بحث کی گئی ہے ۔

اس کتاب نے مشرق اور مغرب میں فلسفے اور علم دین کو متاثر کیا ارسطو کے کئی کاموں میں انسانی علم (علم انسانی) اور خدائی علم (علم الٰہی) کا موازنہ سر انجام دیا گیا ہے۔

الکندی نے بہت سی تحریریں پیش کی تھیں لیکن ان میں چند تحریریں ہی دستیاب ہیں جو فلسفے اور سائنس کے میدانوں کے بارے میں ہیں۔

ان تحریروں میں ایک اہم ترین تحریر بھی شامل ہے․․․․․”پہلی فلاسفی پر“ (Onfirst Philosphy) یہ نسبتاً ایک طویل مقالہ ہے۔

اپنی ”پہلی فلاسفی“ کے اختتام پر الکندی نے یہ واضح کیا ہے کہ محض دانش وری کے سہارے خدا کو نہیں پہچانا جا سکتا۔ ان کے بقول فلاسفر خدا کے بارے میں ایک مثبت بیان دینے کا اہل نہیں ہے ۔خدا کے بارے میں ایک فلاسفر جو کچھ بیان کر سکتا ہے وہ منفی اصطلاح کا سہارا لے سکتا ہے یعنی!

وہ ایک عنصر نہیں ہے۔
وہ ایک جنس نہیں ہے۔
وہ ایک صنف نوع نہیں ہے۔
وہ ایک انفرادی شخص نہیں ہے۔
وہ کسی چیز کا حصہ نہیں ہے۔
اسے کسی کے ساتھ منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

لہٰذا الکندی فلسفہ ایک منفی علم دین کی جانب رہنمائی کرتا ہے․․․․․یعنی اس فلسفے کے تحت خدا کو محض منفی اصطلاح میں ہی بیان کیا جا سکتا ہے ۔اس طرح انہوں نے پلوٹینس (Plotinus) کی پیروی سر انجام دی جس نے یہ درس دیا تھا کہ:۔

“ہم وہ بیان کرتے ہیں جو کچھ نہیں ہے اور جو کچھ ہے ہم اسے بیان نہیں کرتے۔“

اگر دانش ور مثبت اصطلاح میں خدا کے علم کے بارے میں لوگوں کی رہنمائی سر انجام نہیں دے سکتے تب فلسفہ علم دین سے برتر ہر گز نہیں ہے ۔ابن خلدوم کے الفاظ میں ․․․․فلاسفی فہم و فراست تک پہنچتی ہے لیکن فہم و فراست سے آگے نہیں جاتی۔

فہم و فراست سے آگے کیا ہے۔مسلمانوں کے لئے فرشتوں کی دنیا ہے ۔وہ خدا کے پیغامبر نہیں اور انسان اور خدا کے درمیان وسیلہ ہیں ۔

یہ فرشتہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خدا کا پیغام لے کر آتے تھے ۔الکندی فرشتوں کی بات نہیں کرتے ۔ان کے بقول فہم و فراست خدا کے قریب ترین ہے۔

دنیا کی تخلیق کے بارے میں الکندی کا نظریہ اسلامی نظریے کے ہم آہنگ ہے انہوں نے 270 سے زائد مقالے تحریر کیے تھے ،اور ان میں زیادہ تر مقالے زیادہ طوالت کے حامل نہ تھے اور ان سے کئی ایک کے ترجمے لا طینی زبان میں بھی کیے گئے تھے۔

انہیں ریاضی کے میدان میں کافی زیادہ دلچسپی تھی ۔انہوں نے ایک مقالہ تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا کہ:۔

”ریاضی کے علم کے بغیر فلسفے تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں“

الکندی وہ پہلی ہستی تھی جنہوں نے غیر ملکی ادبی ذرائع سے یونانی فلسفے کو منظم انداز میں منتقل کیا اور اسے اپنے اسلامی ماحول میں ڈھالا جہاں پر فلسفے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا بلکہ اس کے ساتھ دشمنوں جیسا رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔

لاطینی تراجم کے ذریعے الکندی نے قرون وسطیٰ کے دور کے یورپی فلسفیوں کو متاثر کیا جو ان کے کام سے آشنا ہوئے بالخصوص اس کام سے جو فطری سائنسوں اور ریاضی کے میدان سے تعلق رکھتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *