لمبی عمر اور صحت مند زندگی کے حصول .کے لئے مددگار غذائیں

(ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔ 04 نومبر2020ء)
کسی نے کیا خوب کہا کہ ”تندرستی ہزار نعمت ہے۔“صحت نہ ہو تو انسان دولت،شہرت،شاید کسی بھی آسائش سے خوشی حاصل نہیں کر سکتا۔ بیماری نہ صرف انسان کا جینا دوبھر کر دیتی ہے بلکہ انسان کی جیبیں بھی خالی کرا دیتی ہے۔دنیا میں طویل زندگی کی خواہش کس شخص کو نہیں ہوتی ،طرز زندگی آدمی کی عمر کے تعین میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔جسمانی سرگرمیاں،تمباکو نوشی سے گریز اور کم سے کم بیٹھنا جسمانی صحت کو طویل عرصے تک اچھا رکھتے ہیں۔
کچھ غذائیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو کسی فرد کی طویل اور صحت مند زندگی میں مدد دے سکتی ہیں۔یہ غذائیں ایسے اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں جن کے ذریعے عمر بڑھنے کے نتیجے میں لاحق ہونے والے امراض جیسے دل کی بیماریاں اور کینسر وغیرہ سے تحفظ مل سکتا ہے۔
ایسے چند اجزاء درج ذیل ہیں جو صحت مند زندگی کے حصول میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
بیریز
اسٹرابیری،بلیو بیری اور بلیک بیری غرض بیریز کی ہر قسم اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں اور کینسر اور دماغی امراض سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں،خاص طور پر ان کا استعمال دماغی افعال اور پٹھوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔
زیتون کا تیل
صحت کے لئے فائدہ مند چکنائی والا یہ تیل ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی خوبیاں رکھتا ہے،کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق غذا پکانے کے لئے اس تیل کا استعمال جسم میں کولیسٹرول لیول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔اس تیل کو دل کی صحت کے لئے بھی فائدہ مند مانا جاتا ہے۔
مچھلی
مچھلی کو دماغ کی غذا بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود فیٹی ایسڈز ڈی ایچ اے اور ای پی اے ہے ،جو دماغ اور اعصابی نظام کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہفتے میں ایک یا دو بار مچھلی کھانے کی عادت سے دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا امکان کم ہوتاہے۔چربی والی مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹس نقصان دہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسڈرز کی سطح میں کمی لاتے ہیں جس سے ورم کی اس قسم میں کمی آتی ہے جو شریانوں میں چربی کے اجتماع کا باعث بنتا ہے،اس طرح فالج یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
گریاں
گریاں جیسے بادام،اخروٹ،پستے اور دیگر کولیسٹرول فری نباتاتی پروٹین اور دیگر اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں۔بادام وٹامن ای سے بھرپور میوہ ہے جو فالج کا خطرہ کم کرتا ہے۔اخروٹ میں موجود چکنائی سے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں کمی میں اضافہ ہوتا ہے۔تاہم اعتدال میں رہ کر ہی ان سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
بیج
کئی اقسام کے بیج میں اعلیٰ قسم کے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔لوبیا،چنے یا دیگر کا ہفتے میں تین سے چار مرتبہ استعمال فائدہ مند ہے کیونکہ ان میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جبکہ موٹاپے،عارضہ قلب اور ذیابیطس کا امکان کم کر سکتا ہے ۔ان کو کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے تو جسمانی وزن میں کمی لانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
دودھ یا اس سے بنی مصنوعات
وٹامن ڈی سے بھرپور مشروبات جیسے دودھ جسم کو کیلشیم کو جذب اور استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں،خاص طور پر ہڈیاں کمزور ہونے یا بھربھرے پن میں یہ بہت اہم ہو سکتا ہے۔دہی کھانے کی عادت نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اجناس
جو،گندم یا دیگر اجناس کو غذا میں شامل کرنا مخصوص اقسام کے کینسر،ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب سے ممکنہ طور پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔
اجناس میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کے کئی مسائل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
سبزیاں
سبزیوں میں فائبر،اینٹی آکسائیڈنٹس اور متعدد اقسام کے منرلز اور وٹامنز ہوتے ہیں جو مختلف امراض سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔سبز پتوں والی سبزیوں میں موجود وٹامن Kہڈیاں مضبوط بناتا ہے،شکر قندی اور گاجر سے وٹامن اے ملتا ہے جو آنکھوں اور جلد کو صحت مند رکھنے کے ساتھ انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو مرد ہفتے میں دس یا اس سے زائد مرتبہ ٹماٹر کھاتے ہیں، ان میں مثانے کے کینسر کا خطرہ 35 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *