جوتے اور پانی پہنچانے گرائونڈ میں جانے سے سرفراز کی کوئی بے قدری نہیں ہوئی

آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں، میں ٹیم کا کپتان تھا لیکن 12 ویں کھلاڑی کی حیثیت سے گراؤنڈ میں گیا،اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے: ہیڈ کوچ

مانچسٹر (ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔7اگست 2020ء ) ٹیم مینجمنٹ کو سابق کپتان سرفراز احمد کو گراونڈ میں پانی اور جوتے دیکر بجھوانے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس کو بیان کر رہا ہے، کسی نے کھیل کا حصہ قرار دیا تو کسی نے کہا کہ سابق کپتان کی بے قدری کی گئی ہے اور سنئیر کھلاڑی ہونے کے ناطے انہیں عزت نہیں دی گئی۔

Going to the ground to deliver shoes and water did not disgrace Sarfraz

دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق سے بھی اس حوالے سے سوال ہوا۔ آن لائن پریس کانفرنس میں مسکراتے ہوئے مصباح الحق نے سوال سنا اور تحمل سے جواب دیا۔ مصباح الحق نے کہا کہ اس حوالے سے بات پاکستان میں ہی ہو سکتی ہے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں، میں ٹیم کا کپتان تھا لیکن 12 ویں کھلاڑی کی حیثیت سے میں گراؤنڈ میں گیا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے، سرفراز احمد زبردست انسان، لڑکا اور کھلاڑی ہے

ہیڈ کوچ نے کہا کہ تین چار کھلاڑیوں نے باری باری سیشن کے حساب سے ذمہ داری نبھانی تھی اور گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کی مدد کرنا تھی، اس میں کسی کی بے قدری کرنا اور کسی کو عزت نہ دینے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ ٹیم گیم ہے اور اچھی ٹیم کی یہی نشانی ہوتی ہے۔

مصباح الحق نے کہا اب تک مانچسٹر ٹیسٹ میں ٹیم کی کارکردگی پر خوشی ہے، شان مسعود بہت محنتی کھلاڑی ہے، اسے اس کی محنت کا پھل ملا ہے، اس نے صرف سنچری ہی نہیں بنائی بلکہ ایک بڑی سنچری بنائی ہے، یہی اس کی اننگز کی خاص بات ہے جب کہ شاداب خان نے بھی شان مسعود کا اچھا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بابرا عظم نے شاندار اننگز کھیلی، اگرچہ بابرا عظم اور شاداب خان اس وقت آؤٹ نہ ہوتے تو پاکستان مزید رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتا لیکن اس کے بعد بولرز نے اپنا کام کیا ہے، بولرز نے شاندار بولنگ کی ہے، میں بہت خوش ہوں۔ مصباح الحق نے کہا کہ محمد عباس توقعات کے مطابق رہا، شاہین آفریدی بھی اچھی بولنگ کر رہا ہے، اس سے بھی بہت خوش ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *