فواد چوہدری اور نوازشریف ایک دوسرے کے خلاف ہو گیا

سابق وزیراعظم نوازشریف ، شہبازشریف اور مریم نواز پر بدعنوانی کے مقدمات ہیں، وہ ان کیسوں کا مقابلہ کریں، ان کا سارا بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے مقدمات کو سیاسی رنگ مل جائے، وفاقی وزیر کی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام اباد (ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔ 06 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی کھل کر مخالفت کردی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بغاوت کے مقدمے کی کسی وزیر نے بات نہیں کی ، ہم چوروں کو باغی کے درجے پر فائز کیوں کریں؟ نوازشریف ، شہبازشریف اور مریم نواز پر بدعنوانی کے مقدمات ہیں ، وہ ان کیسز کا مقابلہ کریں ، وہ اس وقت یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ سیاسی قیدیوں کے طور پر سلوک کیا جائے ، تاکہ کرپشن کے مقدمات کو سیاسی رنگ مل جائے، ان کا سارا بیانیہ بھی یہ ہے ۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزرا کی طرف سے یہ بات کی گئی ہے نوازشریف کے ایجنڈے سے بھارتی موقف کو تقویت مل رہی ہے، کیوں کہ بھارت یہی چاہتا ہے کہ پاکستان کی فوج کو متنازعہ کیا جائے، جس کی وجہ سے پاکستان کی فوج کمزور ہو، جب کہ نوازشریف نے بھی براہ راست کو فوج پر حملہ کیا، جس کی بنا پر ہمارے وزرا نے بھی کہا کہ نوازشریف کی باتیں تو ایسی ایسی جو بھارت کے پالیسی سازوں کی خواہش ہے، یہ ان کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، انہوں نے اسی تناظر میں بات کی۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا‘ نواز شریف کے خلاف لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں مقدمہ درج کیا گیا ، جہاں مسلم لیگ( ن) کے دیگر رہنماﺅں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ، نواز شریف کے خلاف مقدمہ شہری بدر کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر میں عوام کو اکسایا اور نواز شریف نے تقاریر میں بھارت کی ڈکلیئر پالیسی کی تائید کی ، مقدمے میں مسلم لیگ( ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، احسن اقبال، شیخ آفتاب، پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق کو بھی نامزد کیا گیا ہے‘مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، ذکیہ شاہ، طلال چودھری اور دیگر رہنما بھی نامزد کیے گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *