انڈیا کے ایک لڑکےنےآن لائن 19 لاکھ چوری کر لیے

لاہور(ملتان ٹی وی ایچ ڈی ۔ 09 اکتوبر2020ء) سوشل میڈیاکے جہاں مثبت نتائج ہیں وہاں منفی نتائج بھی بہت زیادہ ہیں۔کسی کو کچھ بھی سیکھنا ہو وہ گوگل یا پھر یوٹیوب پر جاتااور اپنی مشکل آسان کر لیتا ہے۔دنیا بھر میں جہاں لوگ ڈیجیٹل میڈیا سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے آتے ہیں وہاں انڈیا کے ایک نوجوان نے اپنی مشکل کا ایک انوکھا حل ڈھونڈنکالا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے بینک کا قرض ادا کرنے کے لیے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی اور پھر اسی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے دو بینک لوٹ کر قرضہ ادا کردیا۔ یہ عام بات ہے کہ صارفین کھانے یا کچھ کرنے کی تراکیب یوٹیوب پر دیکھتے ہیں مگر انڈیا کے شہری نے یوٹیوب پر ڈکیتی کرنے کے طریقے کی ویڈیو دیکھی اور ان تراکیب پر عمل کر کے دو بینکوں کا صفایا کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگار ہونے والا شہری کا نام سومیارانجان جینا ہے جس کا تعلق بھارتی ریاست اڑیسہ سے ہے اور وہ دکان کا مالک ہے۔نوجوان نے بینک سے قرض لیا ہوا تھا جسے وہ اپنی آمدن سے ادا کررہا تھاتاہم جب لاک ڈاون ہوا تو اس کی دکان بند گئی جس وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان ہوگیا تھا۔نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر دو بینکوں سے 12 لاکھ روپے لوٹے جس میں سے دو لاکھ روپے قرض کی مد میں بینک کو ادا کیے۔

سومیارانجان جینا کو پولیس نے پیر کے روز گرفتار کیا تو اس نے بتایا کہ وہ دکان کا مالک ہے، لاک ڈاون سے قبل اس کی ماہانہ آمدنی تقریباً 9 لاکھ روپے ہوتی تھی مگر کرونا کی وجہ سے کاروبار کی حالت بہت خراب ہوگئی۔نوجوان نے بتایا کہ میں نے بینک سے 19 لاکھ روپے قرض لیا تھا، حالات کی وجہ سے میں وہ رقم ادا نہیں کر پارہا تھا جس کے بعد میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی اور پھر بینک لوٹنے کا ارادہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق نوجوان نے بینک لوٹنے کے دوران کھلونا پستول استعمال کی، سب سے پہلے اس نے وہ بینک لوٹا جہاں اس کا خود کااکاونٹ ہے۔ نوجوان نے بینک لوٹنے کی پہلی واردات 7 ستمبر جبکہ دوسری 28 ستمبر کو کی۔پولیس کے مطابق نوجوان کو پیر پانچ اکتوبر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 10 لاکھ روپے، کھلونا پستول اور گاڑی برآمد کی۔ نوجوان نے بتایا کہ اس نے 2 لاکھ روپے قرض کی قسط ادا کردی۔تاہم اب یہ نوجوان پولیس کی کسٹڈی میں چوری کے الزام میں جیل جانے کو تیار بیٹھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *