کوئٹہ جلسے میں تقاریر ، شیریں مزاری نے اہم سوالات اٹھادیے

اسلام آباد (ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔ 26 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے قائدین کی طرف سے کوئٹہ جلسے میں کی جانے والی تقاریر پر کئی سوالات اٹھادیے۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ کیا بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول کی ہائیبرڈ واراوردہشت گردی کی دھمکی اتفاقیہ ہے؟ کیا اجیت دوول کی اس دھمکی کے وقت اویس نورانی کا بلوچستان سےعلیحدگی کی بات کرنااتفاق ہے؟ کیا مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا جبری گمشدگی کے بارے میں دریافت کرنا کوئی اتفاق کی بات ہے؟ کیاعین اسی وقت سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے فوج میں بغاوت کے بیج بونا اتفاق ہے؟ کیا بھارتی این ایس اے اورپی ڈی ایم کاایک ہی موقف آنامحض اتفاق ہے؟۔

اسی حوالے سے وفاقی وزیر اطلات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اسرائیل ، بھارت اور پی ڈی ایم ایک تکون کے تین رخ ہیں ، پی ڈی ایم کا بیانیہ دشمن کی تائید کرتا ہے، نوازشریف مفرور شخص نے آج پھر فوج پر حملہ کیا ، انہوں نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں قائدین کی تقاریر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ نوازشریف سے سب واقف ہیں، پرائی سرزمین پر ہماری فوج پر حملہ کیا، غلط باتیں کیں، مفرور شخص نے پاک فوج پر حملہ کیا، پاک فوج نے جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ، اور ملک وقوم کو دہشتگردی سے نجات دلائی ، یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ دشمن کی تائید کرتا ہے اور ہمارا دشمن اسرائیل ، بھارت اور پی ڈی ایم ہے ، ایک جماعت کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے، اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا، کہ بلوچستان کو آزاد کرو، یہ بات دشمن کرتے ہیں ،اویس نورانی کا آزاد بلوچستان کا بیان ملک دشمن عناصرکے بیانیے کو تقویت دیتا ہے ، ہم ان چور اچکوں سے ملک کو آزاد کروائیں گے،جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو سب ٹھیک اگر باہر ہوں تو پھر اداروں کیخلاف ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے ، مریم نوازنے جو باتیں کیں، کہ لندن میں ادارے بہت سخت ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *