‘ہم متحد ہیں’، افغان طالبان نے قیادت میں اختلافات کی تردید کردی

(ملتان ٹی وی ایچ ڈی 17ستمبر2021)افغانستان میں طالبان کے ترجمان اور وزیر ذبیح اللہ مجاہد اور حقانی نیٹ ورک کے ایک رکن سمیت سینئر طالبان عہدیداروں نے عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے طالبان کے مختلف دھڑوں کی قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 7 ستمبر کو طالبان کی جانب سے کابینہ کی تشکیل کے بعد اختلافات کی خبریں زیر گردش کرنے لگی تھیں جو ان کے وعدوں کے برعکس 1990 کی دہائی میں ان کے سخت دور حکمرانی سے مطابقت رکھتی نظر آتی ہے۔
افغان حکومت تسلیم کرنے یا نہ کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
گزشتہ ہفتے کے آخر میں صدارتی محل میں طالبان قیادت میں عملیت پسند اور نظریاتی دھڑوں کے درمیان مبینہ پرتشدد تصادم کی افواہیں سامنے آئی تھیں جس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ افغانستان کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر مارے گئے۔
عبدالغنی برادر اور وزیر پناہ گزین خلیل الرحمٰن حقانی کے مابین مبینہ طور پر اختلافات کی تصدیق قطر میں مقیم طالبان کے ایک سینئر رکن نے بی بی سی کو کی تھی۔
ذرائع نے عبدالغنی برادر کی عبوری حکومت کے ڈھانچے پر ناخوشی کو تصادم کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا لیکن مزید کہا تھا کہ دونوں دھڑوں نے اس بات پر بھی بحث کی کہ کس کو زیادہ کریڈٹ ملنا چاہیے، برادر مبینہ طور پر چاہتے ہیں کہ ان کی اور حقانی گروپ کی سفارتی کوششوں کا زیادہ سے زیادہ اعتراف کیا جائے اور اس بات پر قائم ہیں کہ لڑنے والے دھڑے نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔
عبدالغنی برادر کی موت کی افواہیں اس حد تک پھیل گئی تھیں کہ انہوں نے بذات خود ایک آڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان جاری کیا کہ ان کی موت کی افواہیں غلط ہیں، انہوں نے گزشتہ روز ملک کے قومی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں۔
طالبان کے دیگر عہدیدار نے بھی قیادت کے اندر دراڑوں کی خبروں کی تردید کی اور ان افواہوں کے خاتمے کے لیے سامنے آنے والوں میں مجاہدین بھی شامل ہیں۔
طالبان کے نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی نے بھی گزشتہ روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امارات اسلامی متحد ہے۔
اشرف غنی کے اچانک فرار ہونے سے شراکت اقتدار کا معاہدہ ناکام ہوگیا، زلمے خلیل زاد
انس حقانی کے ٹوئٹ سے ایک دن قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک علیحدہ بیان میں طالبان میں اختلافات کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ شاید یہ اختلافات طالبان کے لیے ایک سنگین خطرہ نہیں ہیں۔
واشنگٹن کے ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ ہم نے کئی سالوں سے دیکھا ہے کہ تنازعات کے باوجود طالبان بڑے پیمانے پر ایک مربوط ادارہ ہے اور بڑے فیصلوں کو زیادہ دھچکا نہیں لگتا۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں موجودہ اندرونی اختلافات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پھر بھی طالبان بہت زیادہ دباؤ میں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی طاقت کو مستحکم، قانونی حیثیت کے حصول اور بڑے پالیسی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو دباؤ کا شکار طالبان اندرون خانہ مزید انتشار کا سامنا کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *