وہ فلم جس کی پیچیدہ کہانی کئی بار دیکھنے پر مجبور کردے

 ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 22 مارچ 2021)   کورونا وائرس کی وبا کے باعث کئی ماہ تک ہولی وڈ کی کوئی بڑی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی اور ستمبر 2020 میں ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کی فلم ‘ٹینیٹ’ ریلیز ہوئی۔

مگر اکثر افراد اس فلم کو ایک بار دیکھ کر بھی سمجھ نہیں پاتے بلکہ کئی بار دیکھنے کے بعد وہ پلاٹ کو سمجھ پاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر فلم کی کہانی کی وضاحت تو موجود ہے مگر وہ بھی الجھن میں ڈال دیتی ہے یا نامکمل ہے اور ان کو پڑھ کر فلم کے حوالے سے دلچسپی بھی ختم ہوجاتی ہے۔

ہم نے اس کو کافی حد تک آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی اور اگر آپ اس فلم کو دیکھ کر سمجھ نہیں سکے تو وضاحت سے سمجھ جائیں گے کہ آخر ڈائریکٹر کیا دکھانا چاہتا تھا۔

فلم کا مرکزی خیال یعنی وقت کیسے کام کرتا ہے

آپ نے جو کچھ بھی سنا ہو یا دیکھ کر سمجھا ہو، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ٹینیٹ ٹائم ٹریول پر مبنی فلم نہیں بلکہ یہ ٹائم منی پلوشن (manipulation) کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کے کردار دہائیوں آگے چھلانگ لگانے کی بجائے وقت میں ریوائنڈ اور فاسٹ فارورڈ طریقے سے اپنے کام کرتے ہیں اور پورا پلاٹ ہی inversion (عکس ترتیب یا الٹ پلٹ) کے گرد گھومتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو مگر فلم کا پہلا نصف حصہ دوسرے حصے میں ریورس ہوکر دکھایا گیا ہے اور اسی وجہ سے لوگوں کے ذہن گھوم کر رہ جاتے ہیں۔

فلم میں inversion کو آغاز میں 15 منٹ بعد اس وقت دکھایا گیا جب سائنسدان باربرا (کلیمینس پویسی) گولیوں کو میز سے اپنے ہاتھ پر چھلانگ لگانے پر مجبور کرکے اس کانسیپٹ کا مظاہرہ پروٹیگینسٹ (جان ڈیوڈ واشنگٹن) کے سامنے کیا، وہ گولیاں وقت میں پیچھے کی جانب پلٹی تھی جبکہ ارگرد افراد پر اثر نہیں ہوا تھا۔

اس کا ایک مظاہرہ اس وقت بھی نظر آتا ہے جب فری پورٹ کی راہداری میں جو نقاب پوش پروٹیگنیسٹ سے لڑرہا ہوتا ہے، اس کے بارے میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہ اس کا انورٹیڈ ورژن ہے۔

یعنی فلم کے فرسٹ ہاف میں جو مناظر دکھائے گئے تھے ان کی وضاحت ان ہی کرداروں کے ذریعے سیکنڈ ہاف میں ٹائم ریوائنڈ کے ذریعے ہوتی ہے۔

وقت میں ریوائنڈ اور فاسٹ فارورڈ کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص یا چیز ایک عارضی دروازے سے گزرتی ہے، اس دروازے کو فلم کے فلم اینڈرائی سیٹر (کینتھ برانگ) نے تیار کیا ہوتا ہے اور عموماً کسی بڑی جگہ پر ہوتا ہے۔

فلم میں یہ مختلف مقامات میں دکھایا گیا مگر پہلی بار یہ فری پورٹ سیکونس میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں پروٹیگنیسٹ نقاب پوش سے لڑرہا ہوتا ہے۔

فلم میں بعد میں اس دروازے کو کلرکوڈڈ میں دکھایا گیا تاکہ کردار (اور ناظرین) جان سکیں کہ وہ کس جانب ہیں، سرخ سے وقت میں آگے کی جانب جانے کا سگنل ملتا جبکہ نیلا پیچھے کی جانب چھلانگ کی نشاندہی کرتا۔

اس دروازے سے گزرنے کے بعد وقت ریورس ہوجاتا مگر صرف اس سے گزرنے والی چیز یا شخص کے لیے، جبکہ باقی سب کے لیے وقت ہمیشہ کی طرح آگے کی جانب بڑھ رہا ہوتا، تو گاڑیاں پیچھے کی جانب ڈرائیو ہوتی نظر آتیں۔

جو لوگ اس عمل سے گزرتے تھے وہ بیک ورڈ سانس نہیں لے سکتے تو انہیں اپنے ساتھ آکسیجن مشین لے جانی پڑتی، اگر ان کے اردگرد آگ لگتی تو شعلوں میں تپش کی بجائے برف کی ٹھنڈک محسوس ہوتی۔

فلم میں وقت کو آگے پیچھے کرنے کا جو عمل دکھایا گیا ہے اس میں لوگ کسی مخصوص وقت میں جاکر خود سے رابطہ کرسکتے تھے، مگر یہ انورٹیڈ ٹائم بھی ایک ہی رفتار سے لتا، یعنی اگر آپ ایک ہفتے پرانے ایونٹ میں پہنچنا چاہتے تو انہیں پورا ایک ہفتہ ہی انتظار کرنا پڑتا۔

یہی وجہ ہے فلم کے اختتام پر کرداروں نیل (رابرٹ پیٹنسن)، کیتھرین (ایلزبتھ ڈیبسکی) اور پروٹیگنیسٹ کو انورٹیڈ شپنگ کنٹینر سے اشیا کے لیے نکلنے کا انتظار فری پورٹ سے لوٹتے وقت کرنا پڑا۔

ہمارےیوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *