وزیر اعظم کےاصلاحاتی پروگرام کے تحت ایف بی آر کے پاس 330 تعمیراتی منصوبے رجسٹرڈ

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی31دسمبر 2020) اس کے ساتھ ہی 30 دسمبر تک 226ارب روپے کی اشاریاتی سرمایہ کاری کے ساتھ تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس مراعات حاصل کر کے 3ہزار 627 خریداروں نے ان پراپرٹیوں کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ایف بی آر افسران کی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کی مخالفت
ہر بلڈر اور ڈیولپر کو 31 دسمبر 2020 کو یا اس سے پہلے ایف بی آر کے کمپیوٹر پر مبنی آئی آر آئی ایس سافٹ ویئر پر اندراج اور منصوبوں کو 30 ستمبر 2022 سے پہلے مکمل کرنا ضروری ہے۔‎
وزیر اعظم عمران خان نے اپریل 2019 میں تعمیراتی صنعت کے لیے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعظم کےاصلاحاتی پروگرام کے تحت ایف بی آر کے پاس 330 تعمیراتی منصوبے رجسٹرڈ


ٹیکس عہدیداروں کا خیال ہے کہ بلڈر اور ڈیولپرز کے متعدد اشارے والے منصوبے ہیں جن کی تیاری کا عمل ابھی باقی ہے، لہٰذا اسکیم میں منصوبوں کو مخصوص توسیع یا عام توسیع دینا ضروری ہوگا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پہلے ہی حکومت کو کووڈ-19 کے اثرات کی وجہ سے ٹیکسوں کے دیگر اقدامات پر چھوٹ دے دی ہے، عہدیداروں کا خیال ہے کہ جون 2021 تک مزید توسیع حکومت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگی کیونکہ اس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
30 دسمبر تک کے اعداد و شمار کے ٹوٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 183 منصوبے مستقل بنیادوں پر ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کیے گئے تھے جو ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن سمیت تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں، اس کے علاوہ 147 منصوبے ایسے ہیں جنہیں ایف بی آر کے ساتھ عارضی طور پر 25 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے قومی سطح کی کمیٹی بنا دی ہے، شبلی فراز
ایک ٹیکس عہدیدار کے مطابق عارضی طور پر پیش کردہ منصوبے کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہے لیکن سرمایہ کاری کی جانے والی رقم یا منظوری کے منصوبوں سمیت کچھ تفصیلات باقی رہ جاتی ہیں، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ لیکن ٹیکس دہندہ نے اندراج کروانے کے لیے خود سے وابستہ کیا ہے۔
218 منصوبوں کی ایک بڑی تعداد 88ارب کی اشاریاتی سرمایہ کاری کے مسودے کے مراحل میں ہے، عہدیدار کے مطابق یہ محض ڈرافٹ ہیں جو تیاری اور منظوری کے مختلف مراحل پر ہیں، ان منصوبوں کی مکمل رجسٹریشن کے لیے اسکیم میں توسیع کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
خریداروں کی کیٹیگری کا بریک اپ ظاہر کرتا ہے کہ 126ارب روپے کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف 73 افراد نے ایف بی آر کے ساتھ اندراج کرتے ہوئے بلڈرز اور ڈیولپرز سے پراپرٹی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، 10دسمبر 2020 تک 100ارب کی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنے ڈرافٹ تیار رکنے والے افراد تیاریوں کے مختلف مراحل پر ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق وزیر اعظم کا بلڈروں اور ڈیولپرز کے لیے تعمیراتی پیکیج زوروشور سے جاری ہے، اس پیکیج کو ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس، 2020 کے ذریعے نافذ کیا گیا جس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ایک نیا سیکشن 100ڈی اور گیارہواں شیڈول داخل کیا گیا، یہ پیکیج دائرہ کار میں بہت وسیع ہے اور خوبصورت ٹیکس مراعات کی پیش کش کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کیلئے ہر گھر کو 3 لاکھ روپے کی سبسڈی ملے گی، عمران خان
پیکیج کا اطلاق زمین کے بلڈرز اور ڈیولپرز دونوں پر ہو گا اور اس میں دونوں تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، بلڈرز اور ڈیولپرز رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے سلسلے میں پیکج کے ٹیکس فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کا فائدہ افراد اپنی حیثیت سے قطع نظر اٹھا سکتے ہیں، اس میں بلڈروں اور ڈیولپروں کے لیے بالترتیب فی مربع فٹ اور فی مربع یارڈ کی بنیاد پر ٹیکس کے نرخ مقرر ہیں۔
کم لاگت والے رہائشی منصوبوں کے معاملات میں اس حساب سے ٹیکس میں 90 فیصد کمی کی گئی ہے، مزید یہ کہ لمیٹیڈ کمپنیوں کے حصص یافتگان کی سہولت کے لیے ان کے ڈیویڈنڈ کی آمدنی کو ٹیکس سے پاک بنا دیا گیا ہے، اس پیکیج میں ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی بہت سی مراعات کی فراہمی کی گئی ہے۔
سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے بلڈر/ڈیولپرز اور اس طرح کے منصوبوں کی جائیدادیں خریدنے والوں کو سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں تحقیقات سے مکمل استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے جو کچھ شرائط کی تکمیل سے مشروط ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *