فضائی آلودگی سے سالانہ 70 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، ڈبلیو ایچ او

(ملتان ٹی وی ایچ ڈی 23ستمبر2021)اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا کہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ تمباکو نوشی اور غیر صحت بخش کھانے کی وجہ سے مسائل میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بھارت: نئی دہلی میں فضائی آلودگی سے 2020 میں 54 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ہوا کے معیار سے متعلق گائیڈ لائن کو مزید سخت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ گائیڈ لائنز سے تجاوز کرنا صحت کے لیے اہم خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان گائیڈ لائنز پر عمل کرکے لاکھوں جانیں بچ سکتی ہیں، گائیڈ لائنز کا مقصد لوگوں کو فضائی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانا ہے اور حکومتوں کو ان معیارات کی تکمیل کے لیے قانونی طور پر پابند کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے آخری مرتبہ 2005 میں ہوا کا معیار (اے کیو جی) پر مبنی رپورٹ جاری کی جس سے دنیا بھر میں آلودگی کم کرنے کی پالیسیوں پر نمایاں اثر پڑا۔

ٰیہ بھی پڑھیں: جنگوں اور بیماریوں سے زیادہ ’آلودگی‘ سے ہلاکتیں

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ جمع شدہ ثبوت نہ صرف مخصوص ممالک یا خطوں میں بلکہ عالمی سطح پر فضائی آلودگی کا باعث بننے والے اہم عناصر کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ڈیلیو ایچ او کی جانب سے نئی گائیڈلائنز گلاسگو میں 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک منعقد ہونے والی سی او پی 26 گلوبل کلائمٹ سمٹ کے سربراہی اجلاس کے قبل پیش کی گئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے۔

محکمہ موسمیاتی تبدیلی کی سربراہ ماریا نیرا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او گلاسگو میں پیش کرنے کے لیے ایک بڑی رپورٹ تیار کر رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے پر زور دے سکے جس سے صحت پر انتہائی منفی اثرات پڑرہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں فضائی آلودگی سے 2019 میں 16 لاکھ 70 ہزار اموات ہوئیں، رپورٹ

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہم کتنی جانیں بچائیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کی نئی گائیڈ لائنز میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار کو ہوا میں کم کرنے پر زور دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *