شہد کا کاروبار: وزیر اعظم عمران خان پاکستانی نوجوانوں کو مگس بانی کی ترغیب کیوں دے رہے ہیں؟

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 1 جنوری2021) یا آپ کو ایسا ممکن لگتا ہے کہ مکھیوں سے کاروبار کرکے صرف ایک سال کے عرصے میں اپنا سرمایہ دو گنا کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر آپ کے پاس سرمایہ کم بھی ہے تو پھر بھی آپ یہ کاروبار شروع کر سکتے ہیں، کیوں ہے ناں مزے کی بات؟
تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ چند روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے بلین ٹری ہنی پراجیکٹ کا اعلان کیا ہے جس سے شہد کی پیداوار میں اضافہ اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔
آپ کے ذہن میں ضرور اس بارے میں سوالات اٹھ رہے ہوں گے، تو ہم آپ کو اس کے جواب بھی دیتے ہیں۔

شہد کا کاروبار: وزیر اعظم عمران خان پاکستانی نوجوانوں کو مگس بانی کی ترغیب کیوں دے رہے ہیں؟


’اگر آپ کے پاس کاروبار کے لیے چھ لاکھ روپے تک کا سرمایہ ہے تو یقین مانیں شہد کی مکھیوں کے ذریعے صرف ایک سال میں آپ یہ سرمایہ بارہ لاکھ روپے تک لے جا سکتے ہیں۔‘ یہ الفاظ ہیں مگس بانی کے شعبے سے وابسطہ ایک ایسے شخص شیخ گل بادشاہ کے جو 20 سالوں سے اس کاروبار سے منسلک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار میں وہ جب سے آئے ہیں ان کے حالات بدل گئے ہیں اور بہت سارے ایسے لوگ ان کے سامنے ہیں جنھوں نے یہ کاروبار چھوٹے پیمانے سے شروع کیا اور اب وہ شہد بیرون ممالک برآمد کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اس کاروبار میں آنا چاہتا ہے تو انتہائی کم سرمائے سے بھی یہ کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے جس سے اچھا خاصہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کاروبار میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ یہ کاروبار ہر اس جگہ پر شروع کیا جا سکتا ہے جہاں ایسے پھولوں والے درخت موجود ہوں جو شہد کی مکھیوں کے لیے موزوں ہوں۔
شہد
یہ شعبہ بظاہر نظر انداز رہا ہے اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی جس وجہ سے پاکستان میں شہد کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جنگلات کی کٹائی اور گذشتہ عرصے میں فوجی آپریشنز اور بارودی دھماکوں کی وجہ سے اس شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔
اب موجودہ حکومت نے اس بارے میں اہم اعلانات تو کیے ہیں لیکن اس پر من و عن عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس کے لیے بلین ٹری ہنی پروگرام کے 10 سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ درخت لگائے جائیں گے جو شہد کی پیداوار کے لیے موزوں ہیں۔ ان میں بیری، پلوسی، کیکر، پھلائی اور دیگر درخت شامل ہیں۔
شہد کی مکھیوں سے منافع کیسے کمایا جائے؟
’اگر وزیر اعظم عمران خان کے منصوبے کے مطابق پاکستان میں جنگلات کے لیے ایسے درخت لگائے جائیں جو شہد کی پیداوار کے لیے موزوں ہیں تو لاکھوں افراد اس کاروبار سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں اور ملک کے لیے زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔‘ یہ کہتے ہوئے شیخ گل بادشاہ نے بتایا کہ انھوں نے تھوڑے سے سرمائے سے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور اب ان کے پاس دو ہزار باکس ہیں اور اس کے علاوہ وہ شہد مختلف ممالک کو برآمد بھی کرتے ہیں۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر ایک عام آدمی یہ کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے کیا کرنا ہوگا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شخص 100 باکس لیتا ہے تو اس پر خرچ لگ بھگ چار لاکھ تک خرچ آئے گا کیونکہ ایک باکس کی قیمت کوئی چار ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس پر کوئی دو لاکھ روپے مزید اخراجات آ جاتے ہیں جس میں مکھیوں کا خرچہ، فریم اور مکھیوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ادویات شامل ہیں۔ یہ کُل سرمایہ چھ لاکھ روپے تک ہو جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک باکس سے لگ بھگ آٹھ سے 10 کلو گرام تک شہد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کاروبار کے ذریعے ایک سال میں چھ لاکھ روپے کو دوگنا کر کے 12 لاکھ روپے کیے جا سکتے ہیں۔‘
’اس طرح وہ ان باکس کی تعداد زیادہ کرتا جائے تو اس کا کاروبار پھیل سکتا ہے اور وہ یہ شہد مختلف ممالک کو برآمد کر سکتا ہے۔’
شہد
کاروبار کی الف ب
یہ سوال ہر ایک کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ اس کے لیے تربیت کیسے حاصل کی جائے۔ پشاور میں شہد کی بڑی منڈی ترناب میں واقع ہے جہاں پر شہد کے بارے میں ہر قسم کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہاں باکس، اس کے اندر فریم، شہد کی مکھیوں اور دیگر امور کے بارے میں تفصیلات مل سکتی ہیں۔ یہاں ایسی تنظیم بھی ہے جو سال میں ایک یا دو مرتبہ یہ تربیت مفت فراہم کرتی ہے۔
اس بارے میں شہد کے کاروبار کے تاجروں کی تنظیم کے سربراہ نعیم قاسمی نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کے حالیہ اعلان کے بعد شہد کی پیداوار کے لیے ضروری درختوں کے جنگلات میں اضافہ ہوگا اور اس سے شہد کی پیداوار بڑھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار میں خواتین بھی سامنے آئی ہیں اور اگر نئے لوگ اس میں کاروبار کے لیے آنا چاہتے ہیں تو وہ اس بارے میں تربیت فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا اعلان بہتر ہے لیکن پہلے سے موجود ایسے درختوں کی کٹائی اب بھی جاری ہے جو شہد کی پیداوار کے لیے موزوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مکھیوں کو قابو میں رکھنے کا ہنر
اگر آپ شہد کی مکھیوں کو قابو میں رکھنے کا ہنر سیکھ جائیں تو آپ چھوٹے سے لے کر بڑے پیمانے تک شہد کا کامیاب کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔
یہ مکھیاں پیدائشی طور پر ہی انتہائی متحرک ہوتی ہیں اس لیے انھیں کارکن مکھی بھی کہا جاتا ہے۔ انھیں قابو میں رکھنے کا ہنر کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس ہنر کے لیے سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے، مکھیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، انھیں بیماریوں سے بچانا پڑتا ہے اور پھر جہاں بھی شہد کی مکھیوں کے لیے موزوں پھولوں والے درخت زیادہ ہوں وہاں یہ بکس رکھ دیے جائیں تو کارکن مکھیاں بہتر کام کرتی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے شہد کی پیداوار میں اضافے کے لیے مہم کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے تحت بیری، کیکر، پھلائی اور اس طرح کے دیگر درخت لگائے جائیں گے جس سے مگس بانی کو فروغ حاصل ہوگا۔ وزیر اعظم کے پروگرام کے تحت بے روزگاری کے خاتمے کے لیے شہد کے کاروبار کے لیے نوجوانوں کو راغب کیا جائے گا۔
شہد
درآمد سے برآمد تک
شیخ گل بادشاہ کے مطابق پاکستان میں شہد کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جاتی رہیں لیکن اس میں کامیابیاں حاصل نہیں ہو سکیں۔
پاکستان میں چار قسم کی شہد کی مکھیاں پائی جاتی ہیں لیکن یورپی نسل کی مکھی کی مانگ زیادہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد کوششیں کی گئیں لیکن شہد کے کاروبار کو فروغ حاصل نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں دیگر ممالک سے شہد درآمد کیا جاتا تھا لیکن اس کے بعد اچانک ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔
افغانستان میں جنگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور ان کی بہت بڑی تعداد پاکستان بھی پہنچی اور ان کے پاکستان آنے سے یہاں نئے کاروبار بھی متعارف ہوئے۔
افغانستان جنگ کے دوران جب بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آئے تو 1980 میں کوئی 1800 شہد کی مکھیوں کی پیٹیاں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے تعاون سے لائی گئیں اور اس کے لیے ان پناہ گزینوں کو تربیت فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنا کاروبار خود شروع کر سکیں۔
پشاور کے ترناب فارم کے قریب شہد کی بڑی مارکیٹ کو پاکستان میں شہد کی سب بڑی منڈی کہا جاتا ہے۔ اس مارکیٹ میں موجود ڈیلر شیر زمان نے بتایا کہ پاکستان میں شہد کا کاروبار 1990 کی دہائی میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اور پھر اس کے بعد شہد کا کاروبار پھیلتا گیا اور مکھیوں کی تعداد کو اس حد تک بڑھایا گیا کی مکھیوں کی ان پیٹیوں کی تعداد اب لگ بھگ 35 سے 45 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
ان اقدامات سے شہد کے کاروبار کو اتنا فروغ حاصل ہوا کہ 1990 کی دہائی میں پاکستان شہد برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا تھا۔پاکستان میں اس وقت 7500 میٹرک ٹن ہے اور وزیر اعظم کے اس پروگرام کے تحت شہد کی پیداوار 70 ہزار میٹرک ٹن تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
شیخ گل بادشاہ کے مطابق پاکستان میں اس شعبے سے لگ بھگ 12 سے 15 لاکھ لوگ وابستہ ہیں اور وہ اس سے اچھا خاصہ سرمایہ کما رہے ہیں۔ ان میں بی کیپر یعنی وہ جو مگس بانی کرتے ہیں، ڈیلرز اور پھر ایکسپورٹرز ہوتے ہیں۔ اس طرح ایسے کاروباری بھی موجود ہیں جو اس کاروبار کے لیے بکس، ادویات اور دیگر سامان فراہم کرتے ہیں۔
شہد
بیری کے شہد میں کیا خاص بات ہے؟
اس کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بیشتر ممالک میں بیری کے شہد کو ہی اصل شہد سمجھا جاتا ہے جو مختلف بیماریوں میں کارآمد ہے اور اس میں زیادہ توانائی پائی جاتی ہے۔ بیری کے شہد میں معدنیات زیادہ ہوتی ہے اور اس کی مٹھاس کم ہوتی ہے، جبکہ اس شہد کو کھانے سے بوجھ نہیں پڑتا۔
نعیم قاسمی کا کہنا ہے کہ بیشتر عرب ممالک میں بیری کے شہد کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان سے اس شہد کے لگ بھگ 900 کنٹینر پیدا ہوتے ہیں، اور ہر کنٹینر میں 20 ہزار کلوگرام شہد ہوتا ہے۔ ان کے مطابق لگ بھگ 700 کنٹینر عرب ممالک کو برآمد ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لگ بھگ 16 اقسام کا شہد پیدا ہوتا ہے جنھیں باہر ممالک میں پسند کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقے اور پنجاب میں کندیاں کے علاقے میں بیر کے جنگلات ہیں، لیکن ان کی کٹائی جاری ہے جس سے بیری کے شہد کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *