سیاسی الزام تراشیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، سربراہ براڈ شیٹ

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 11 جنوری 2021) ایرانی نژاد برطانوی وکیل کاوے موسوی نے پاکستانی خبروں کے لیے مخصوص لندن میں مقیم ایک یوٹیوب چینل عرفان ہاشمی آفیشل کو تصدیق کی کہ حکومت پاکستان سے حاصل کیے گئے 2کروڑ 90 لاکھ ڈالرز اب آئل آف مین کے ایک اکاؤنٹ میں ہیں جہاں یہ کمپنی 2000 سے رجسٹرڈ ہے۔
‘اثاثہ برآمدگی کمپنی’ کا شریف خاندان کی ایون فیلڈ جائیداد سے متعلق دعویٰ
اسی سال مشرف حکومت نے پاکستانی سیاستدانوں اور تاجروں کے غیر قانونی غیر ملکی اثاثوں بازیافت کرانے کے لیے اس فرم کی خدمات حاصل کی تھیں، اثاثے کی بازیابی کے معاہدے کے تحت اس کی ادائیگی پر ‘ہدف’ سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 20فیصد معاہدے کے تحت ادا کی جائے گی۔

Multan Tv Hd
سیاسی الزام تراشیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، سربراہ براڈ شیٹ


یہ معاہدہ 2003 میں ختم کیا گیا تھا اور اگرچہ کاوے موسوی نے دھماکہ خیز شواہد رکھنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیاکہ ان کی تحقیقات کے بعد کون سے اثاثے حکومت کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔
اس کے برعکس براڈشیٹ ایل ایل سی نے برطانوی عدالت کے فیصلے کے تحت گزشتہ ماہ برطانیہ کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے اپنی خدمات کے سلسلے میں واجب الادا 2کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی رقم حاصل کی ہے۔
کاوے موسوی نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں 2000 میں ان سے پاکستان آنے کے لیے رابطہ کیا گیا تاکہ عناصر کے چوری شدہ اثاثوں کے پیچھے لگا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس اہم شرط پر معاہدہ کیا کہ حکومت میں تبدیلی کے باوجود اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا اور سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف جیسے ‘اہداف’ کے پیچھے پڑنے کے معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں وکلا ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے، وہ نیب کے ساتھ رابطہ کر رہے تھے، ہمارے پاس نیب کی عمارت میں ایک آفس موجود تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں مشرف کی توجہ نواز شریف اور ان کی حکومت کے پیچھے رہنا تھی لیکن ہم نے اصرار کیا کہ ہم کسی سیاسی الزام تراشی کا نشانہ نہیں بنیں گے اور کہا کہ بھٹو حکومت سمیت پچھلی حکومتوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سب سکرائب کرنا مت بھولیں Multan TV HD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *