دیا مرزا کو انڈسٹری سے کیا شکایت ہے؟

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 18 دسمبر 2020) سنہ 2001 میں فلم ’رہنا ہے تیرے دل میں‘ سے اپنے فنی کریئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ دیا مرزا کو انڈین فلم انڈسٹری میں بیس برس پورے ہونے والے ہیں۔ ہیروئن کے کرداروں کے ساتھ ساتھ دیا مرزا متعدد فلموں میں مہمان اداکار کے طور پر بھی نظر آئی ہیں۔
روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ بات چیت میں دیا کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ ہمیشہ سے مردوں کے غلبے والی انڈسٹری رہی ہے جہاں ایک 50 برس سے زیادہ عمر کا ہیرو 19 برس کی ہیروئن کے ساتھ رومانس کرتا نظر آتا ہے تاکہ اس کی شیلف لائف برقرار رہے۔


دیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ بڑی عمر کی ہیروئنز کے لیے کہانیاں لکھی ہی نہیں جاتیں جبکہ عمر دراز ہیروز کے لیے بے شمار کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ تاہم دیا مرزا کا خیال تھا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے سبب اداکاراؤں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور وہ امید کرتی ہیں کہ اس پلیٹ فارم پر بڑی عمر کی اداکاراوں کو اچھی کہانیاں ملیں گی جس میں ان کا مرکزی کردار ہو گا۔
یہ کسی حد تک درست ہے کہ شوبز میں خواتین کے ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد انھیں ہیروئن کے کردار آفر نہیں کیے جاتے جبکہ ہیرو کے کردار کے لیے عمر کی کوئی بندش نہیں تاہم یہ بھی کسی حد تک درست ہے کہ عورتوں کے مرکزی کردار والی فلمیں بنائی بھی گئی ہیں اور بہت کامیاب بھی رہی ہیں چاہے وہ سری دیوی کی انگلش ونگلش ہو یا رانی مکھرجی کی مردانی سیریز۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں سوال یا قصور صرف انڈسٹری کا نہیں معاشرے کا بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں اپنے سے آدھی عمر کی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ رومانس کرتے ہیروز کی فلمیں باکس آفس پر اربوں روپے کماتی ہیں۔
جہاں تک او ٹی ٹی پلیٹ فارم کا تعلق ہے اس کے آنے کے بعد سے اب ایک طرح سے سٹار ڈم کی تشریح ہی بدلنے لگی ہے۔ یہاں ریلیز ہونے والی فلمیں پسند بھی کی جا رہی ہیں اور ان فلموں یا سیریز میں جس طرح کا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے اس سے نہ صرف انڈسٹری کی شکل بلکہ معنی ہی بدلتے نظر آ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *