خوبانی کے فوائد

یہ موسم گرما کا ایک لذیذ،شیریں تر اور مرغوب پھل ہے۔ جیسے فارسی زبان میں لفظ’خوباں‘ حسین اور خوبصورتی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اصل میں یہ پھل فارس میں پیدا ہوا اور ایران کے قرب و جوار میں بڑی جسامت والی خوبانی آج بھی شوق سے کھائی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں اس کا جام،جیلی،خوبانی کا میٹھا خاص طور پر کسٹرڈ کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔

پاکستانی علاقوں ہنزہ اور آزاد کشمیر اس کے وطن ہیں جہاں سے پورے ملک میں خوبانی سپلائی ہوتی ہے۔

خوبانی کے طبی فوائد

دوران خون کی باقاعدگی سے جسم تندرست رہتا ہے۔ امراض قلب سے محفوظ رہنے کے لئے موسم کے دیگر پھلوں کے ساتھ ساتھ خوبانی کھانا بھی مفید ہوتا ہے ۔اگر کسی کا بلڈ پریشر کم ہوا ہو ا سے بھی افاقہ ہوتا ہے۔

خون کی روانی کے لئے خوبانی کی خاص صفت مانع تکسیدی ہونا ہے۔ یہ خون کے جوش کو کم کرنے والا پھل ہے۔ خارش اور گرمی دانوں میں بھی اکسیر ہے۔ بواسیر خونی یا بادی مسے ہو جانے کی صورت میں یہ پھل کھانے سے جلن کم ہونے لگتی ہے۔ ویسے تو یہ آم کا موسم ہے اور لوگ پھلوں کے اس بادشاہ کے استقبال کی کچھ اس لگن سے تیاری کرتے ہیں کہ پھر دن ہو یا رات آم ہی مختلف شکلوں میں کھاتے ہیں۔

آپ ایک وقت خوبانی کے لئے بھی مخصوص کیجئے۔ یہ خون کی کمی بھی دور کرنے والا پھل ہے۔اس میں قدرتی فولاد موجود ہے۔ ماں بننے والی خواتین کو ناشتے میں بھی دو دانے خوبانی کے کھا لینے مفید ہوتے ہیں اور اگر فولاد کی کمی سے سانس رکتی ہو،نیند کا غلبہ رہتا ہو،درد سر اور تھکن رہتی ہو تو بھی خوبانی کھانے سے آرام ملتا ہے۔

35گرام خوبانی میں شامل اجزاء

چکنائی 0.3فیصد
نشاستہ 11.6فیصد
کیلشیم 20ملی گرام
فولاد 202ملی گرام
کیلوریز 23فیصد
پروٹین 1.0فیصد
معدنیات 0.7فیصد
فاسفورس 25ملی گرام
وٹامن 3600Aملی گرام
وٹامن 6.0Cملی گرام

کورونا وائرس کے اس دور میں قوت مدافعت بڑھانے کی اہمیت مسلمہ ہے ۔

آپ ادویات یعنی سپلیمنٹ کی شکل میں فولاد یا وٹامن C لیتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ ساتھ چند دانے خوبانی کے بھی کھالیں تو یہ قدرتی غذا آپ کو توانا رکھے گی۔قبض کے دائمی مریضوں کو بھی ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ چند دانے کھانے سے کچھ دیرپہلے خوبانی کھا لیں تو اس ام الامراض سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کا استعمال پیٹ کا بھاری پن اور گیس میں بھی افاقہ دیتا ہے۔ پیٹ کے کیڑوں اور جلن کے لئے خوبانی کے درخت کے پتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان پتوں کا جوشاندہ (قہوہ) تیار کرکے پینے سے یہ جلن ختم ہو جاتی ہے اور پیٹ کے کیڑے بھی نکل جاتے ہیں۔ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے احتیاط بتائی جاتی ہے کہ وہ صرف چکھنے کی حد تک خوبانی کا استعمال کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *