جے ایف 17: کیا پاکستان کا نیا ’بلاک تھری‘ لڑاکا طیارہ رفال کا مقابلہ کر سکے گا؟

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 31 د سمبر 2020) پاکستان فضائیہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے جے ایف 17 کے بلاک 3 کی تیاری شروع کر دی گئی ہے جبکہ چین کے تعاون سے تیار کردہ 14 جے ایف 17 بی طیارے پاکستانی فضائیہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
یہ طیارے پاکستان ایروناٹیکل کامپلیکس (پی اے سی) نے تیار کیے ہیں۔
بدھ کو کامرہ ایئربیس میں ڈبل سیٹ والے جے ایف 17 بی طیاروں کی پاکستان ائیر فورس کے بیڑے میں شمولیت اور جے ایف 17 بلاک تھری کی پروڈکشن کے آغاز کی تقریب ہوئی۔

جے ایف 17: کیا پاکستان کا نیا ’بلاک تھری‘ لڑاکا طیارہ رفال کا مقابلہ کر سکے گا؟


جے ایف 17 بی پہلے سے موجود جے ایف 17 سے کیسے مختلف ہیں؟
پاکستان ایئر فورس کے ترجمان احمر رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان فضائیہ میں شامل ہونے والے نئے جے ایف 17 بی ماڈل طیاروں میں دو سیٹیں ہوتی ہیں اور یہ زیادہ تر تربیت کے لیے استعمال کیے جائیں گے تاہم ان میں موجود صلاحیتیں پہلے سے موجود جے ایف 17 طیاروں جیسی ہی ہیں۔
’نئے طیاروں میں میزائل اور ریڈار بھی پرانے طیاروں جیسے ہیں، بس نئے ماڈل میں ایک سیٹ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ دوسرا پائلٹ بھی بیٹھ سکے اور ہم ان طیاروں کو ٹریننگ میں استعمال کر سکیں۔‘
پاکستان ایئر فورس کا کہنا ہے کہ یہ ادارے کی تربیتی ضروریات کو تو پورا کریں گے ہی لیکن یہ مکمل طور پر ہر طرح کے جنگی آپریشن کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فورس کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
’رفال طیاروں کی فکر انھیں ہونی چاہیے جو ہماری سالمیت کے لیے خطرہ ہیں‘
’بلاک تھری‘ کیا ہے؟
پاکستان ائیر فورس کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے جے ایف 17 تھنڈر کے بلاک تھری کی پروڈکشن کا افتتاح کیا
پاکستان ائیر فورس کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے جے ایف 17 تھنڈر کے بلاک تھری کی پروڈکشن کا افتتاح کیا
جے ایف 17 بی کی پاکستان ایئر فورس میں شمولیت کے علاوہ فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل نے بدھ کو جے ایف 17 تھنڈر کے بلاک تھری کی پروڈکشن کا افتتاح بھی کیا ہے۔
پاکستان ایئر فورس کے مطابق بلاک تھری کے جے ایف 17 طیارے سب سے زیادہ ایڈوانس ماڈل ہوں گے اور اس کی مدد سے پاکستان ایئر فورس کو علاقے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں مزاحمت کی قوت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دیں گے۔
جے ایف 17 بلاک تھری فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے ہوں گے۔
پاکستان ایئر فورس کے ترجمان نے ہمیں بتایا کہ ’بلاک تھری جے ایف 17 کا اگلا ورژن ہے۔ جس میں نئے ریڈار لگائے جائیں گے، اس ورژن کا جہاز نئے اور جدید ہتھیاروں اور میزائلوں سے بھی لیس ہوگا۔ الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جائے گا اور ہر زاویے سے اس میں بہتری لائی جائے گی۔‘
پاکستان نے چین کے تعاون سے جے 17 طیاروں کی پروڈکشن شروع کی تھی
ترجمان کے مطابق بلاک تھری کے طیارے ’تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال میں تیار ہو جائیں گے۔‘
ایئر مارشل ریٹائرڈ مقصود اختر کا کہنا ہے کہ بلاک تھری کے جے ایف 17 طیاروں میں active electronically secondary radar ہوگا اور بہتر میزائل ہوں گے۔
’بلاک تھری کا جے ایف 17 طیارہ فضا سے زمین جبکہ فضا سے فضا میں ہی وار کرنے والے ہتھیاروں سے لیس ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ طیارے فورتھ جینریشن میں شامل ہوں گے۔
کیا بلاک تھری کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا موازنہ رفال سے کرنا درست ہے؟
جے ایف 17 بلاک تھری کے بارے میں دعوے کیے جا رہے ہیں کہ یہ انڈیا کے رفال طیاروں سے بھی بہتر ہوں گے۔
ترجمان پاکستان ایئر فورس نے کہا ’جی بالکل۔۔۔ اس طرح کے تجزیے بالکل درست ہیں بلکہ بلاک تھری بہت سی صلاحیتوں میں رفال سے بہتر ہوگا۔ یہ وہ جہاز ہوگا جو رفال کا مقابلہ کر سکے گا۔‘
تاہم ایئر کمانڈر ریٹائرڈ عادل سلطان کہتے ہیں کہ ’سو فیصد ایسا نہیں کہہ سکتے۔‘
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہم ہر چیز کا موازنہ پاکستان اور انڈیا کے تناظر میں کرتے ہیں، ہر جہاز کا اپنا کردار ہوتا ہے، جے ایف 17 بلاک تھری پر لگنے والے میزائل اور ریڈار رفال پر لگنے والے میزائل اور ریڈار سے بہتر ہیں تو ہم اس تناظر میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ طیارہ رفال سے تھوڑا بہتر ہو سکتا ہے، لیکن جہازوں کا موازنہ کرتے ہوئے اور بھی بہت سی چیزوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔‘
کامرہ میں تقریب کے موقع پر پاکستان میں تعینات چینی سفیر بھی موجود تھے جنھیں پاکستان ایروناٹیکل کامپلیکس بورڈ کے چیئرمین ائیر مارشل ریٹائرڈ سید نعمان کی جانب سے ایک تختی دی گئی
کامرہ میں تقریب کے موقع پر پاکستان میں تعینات چینی سفیر بھی موجود تھے جنھیں پاکستان ایروناٹیکل کامپلیکس بورڈ کے چیئرمین ائیر مارشل ریٹائرڈ سید نعمان کی جانب سے ایک تختی دی گئی
جے ایف-17 تھنڈر کن صلاحیتوں کا حامل ہے؟
ایئر مارشل ریٹائرڈ مقصود اختر نے پاک فضائیہ میں شامل ہونے والے 14 دو سیٹوں والے جے 17 بی طیاروں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ کے لحاظ سے پاکستان کے لیے ان طیاروں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
’جب بھی ہم کسٹمر سے بات کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ ہمیں تربیت کے لیے ڈبل سیٹ والے جہاز چاہیئں اور ان جہازوں کو خاص طور پر اسی لیے تیار کیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ پی اے سی کامرہ میں بدھ کو ان جے ایف 17 طیاروں کی بھی نمائش کی گئی جو پاکستان نے مختلف ممالک کو فروخت کرنے کے لیے تیار کیے ہیں۔
جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔
پاکستان نے چین کی مدد سے ہی ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔
اس طیارے کی تیاری، اپ گریڈیشن اور ‘اوورہالنگ’ کی سہولیات بھی ملک کے اندر ہی دستیاب ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس طیارے کی تیاری کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق جے ایف تھنڈر طیارہ ایف-16 فیلکن کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ تمام تر موسمی حالات میں زمین اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے والا ہمہ جہت طیارہ ہے جو دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر نے اسی صلاحیت کی بدولت بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے بالاکوٹ واقعے کے بعد انڈین فضائیہ کے مگ کو گرایا تو اس کے ساتھ ہی جے ایف-17 تھنڈر کو بھی خوب پذیرائی ملی۔
جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رفال کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔ یہ طیارہ ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا بالکل ایسے ہی پیچھا کرتا ہے جیسے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر زمین پر حریف کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
پاکستان نے جے ایف 17 پر کب کام شروع کیا؟
یہ قصہ سنہ 1995 سے شروع ہوتا ہے جب پاکستان اور چین نے جے ایف 17 سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
اس طیارے کا پہلا آزمائشی ماڈل سنہ 2003 میں تیار ہوا اور پاکستانی فضائیہ نے سنہ 2010 میں جے ایف-17 تھنڈر کو پہلی مرتبہ اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا۔
اس منصوبے میں مِگ طیارے بنانے والی روسی کمپنی میکویان نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔ پاکستان فضائیہ نے جے ایف-17 تھنڈر کو مدت پوری کرنے والے میراج، ایف 7 اور اے 5 طیاروں کی تبدیلی کے پروگرام کے تحت ڈیزائن کیا۔
سوشل میڈیا پر لوگ جے ایف 17 بی طیاروں کی پاکستان فضائی میں شمولیت کو سراہتے اور تبصرے کرتے نظر آئے۔
میاں ایوب نامی صارف نے جے ایف 17 کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’گہری نیند سویے، پاکستان ایئر فورس ہماری جانوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت جاگ رہی ہے۔‘
شین اعوان نامی صارف نے لکھا کہ یہ قومی فضائی دفاع میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہم نے مزید طاقت حاصل کر لی ہے۔‘
زرون نامی صارف نے جے ایف 17 تھنڈر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’پاکستان فضائیہ کی طاقت کو غلط مت سمجھیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *