ایپل مزید 18 ارب روپے بطور جرمانہ ادا کرنے پر رضا مند ہوگیا

معروف امریکی کمپنی ایپل کو (ملتان ٹی وی ایچ ڈی۔ 20نومبر 2020ء) پرانے آئی فونز کی رفتار کم کرنا مہنگا پڑ گیا۔ ایپل کپنی عدالتی تنازعہ ختم کرنے کے لیے صارفین کو مزید 18 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد ادا کرنے پر رضامند ہوگئی.

میڈیا رپورٹس کے مطابق موبائل فونز بنانے والی معروف امریکی کمپنی کو مجموعی طور پر ایک کھرب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ڈیل سے پہلے ایپل نے متاثرہ صارفین کو 80 ارب 15 کروڑ ادا کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔
امریکا میں 33 ریاستوں نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تھا کہ ایپل صارفین کو نئے آئی فون خریدنے پر مجبور کرنے کے لیے پرانے فونز کی رفتار کو آہستہ کرتی ہے۔
سال 2016 میں آئی فون 6، 7 اور سیشل ایڈیشن کے فونز کو سست کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس سے کروڑوں صارفین متاثر ہوئے تھے۔ اس اسکینڈل کو ’’بیٹری گیٹ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2017 میں ریسرچرز نے انکشاف کیا تھا کہ پرانے آئی فونز غیرمعمولی طور پر سست ہو رہے ہیں۔ ایپل کا کہنا تھا کہ پرانے فونز کی بیٹری لائٹ بڑھانے کے لیے ان کی رفتار سست کی جاتی ہے۔

ایپل مزید 18 ارب روپے بطور جرمانہ ادا کرنے پر رضا مند ہوگیا


2017 میں ایپل نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے کچھ آئی فونز کی رفتار کم کی ہے مگر یہ ڈیوائس کی معیاد بڑھانے کے لیے کیا گیا لیکن صارفین کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کوئی تجویز نہیں دی گئی تھی۔
اس سے قبل فرانس کی مسابقتی اتھارٹی نے امریکی کمپنی ایپل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر 2 کھرب روپے کا جرمانہ کیا تھا۔
فرانس امریکی کمپنی ایپل کیخلاف تحقیقات 2012 سے جاری تھیں جس سے ثابت ہوا تھا کہ ایپل اور اس کے دو ہول سیل ڈیلرز کے درمیان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا غیر قانونی معاہدہ تھا.
فرانسیسی مسابقتی اتھارٹی کے سربراہ اسابیل ڈی سلوا نے کہا تھا کہ “ایپل نے ان پریمیم ری سیلرز کے معاشی انحصار کا ناجائز استعمال کیا اور ان پر غیر منصفانہ معاشی حالات مسلط کیے اس کے نیٹ ورک کیلئے بد تر تھا‘۔
فرانس کی جانب سے بھاری جرمانے کے بعد امریکی کمپنی ایپل نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے اتفاق نہیں کرتی اور اس کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *