آئی ٹی کی صنعت میں بے شمار آسامیاں: پاکستانی کام کی غرض سے جاپان جانے کو ترجیح کیوں نہیں دیتے؟

ویب ڈیسک (ملتان ٹی وی ایچ ڈی 31 دسمبر 2020) جاپان 2030 تک 64 لاکھ کی افرادی قوت سے محروم ہوجائے گا جسے پُر کرنے کے لیے پاکستانی افراد کے پاس موقع ہے، مگر یہ کام کیسے ممکن ہے؟
’میں جب 1989 میں یہاں آیا تھا تو صرف مچھلی اور سبزی کھاتا تھا۔ بہت وقت لگا یہاں جگہ بنانے میں۔ یہاں مذہبی آزادی بھی ہے۔ اب پہلے کے مقابلے میں حالات بہت مختلف ہیں۔ اگر میں آپ کو یہاں کے علاقے کوبے لے جاؤں، تو یہاں اس وقت شیش کباب، کوفتے اور سموسوں کی خوشبو آتی ہے۔ آس سے یہاں آنے والے کو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ بھی گھر ہوسکتا ہے، جبکہ آس پاس آپ کو مختلف زبانوں میں لوگ بات کرتے ملتے ہیں۔‘
یہ کہنا ہے جاپان کے شہر ٹوکیو میں مقیم پاکستانی محمد زبیر کا جو پچھلے 30 سال سے وہاں فوٹوگرافر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ وہ اچانک سے پاکستانیوں کو جاپان جانے کا مشورہ دے رہے ہیں؟

آئی ٹی کی صنعت میں بے شمار آسامیاں: پاکستانی کام کی غرض سے جاپان جانے کو ترجیح کیوں نہیں دیتے؟


اس کا جواب ملتا ہے جاپانی وزیر اعظم اور ان کے قریبی مشیر کے درمیان ہونے والے ایک مکالمے سے۔
جاپان میں تارکینِ وطن کی کمی
جاپانی مشیر برائے معاشیات ہائزو تاکی ناکا نے حال ہی میں جاپان کے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ سنہ 2030 تک جاپان 64 لاکھ افرادی قوت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے جاپان کو افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔
چونکہ اس وقت جاپان میں کام کرنے والے افراد کی زیادہ تر آبادی معمر افراد پر مشتمل ہے، اس لیے اب جاپان کو دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا پڑے گا اور مختلف شعبوں کے لیے غیر ملکی ملازمین ڈھونڈنے پڑیں گے۔
معاشیات کے مشیر تاکی ناکا نے تنخواہوں کا معیار کے مطابق نہ ہونا، انکم ٹیکس کی زیادتی اور بین الاقوامی طرز کے سکولوں کی کمی کو وجہ بتاتے ہوئے مقامی اخبار کو بتایا کہ اس کے نتیجے میں بیرونِ ملک سے لوگ جاپان نہیں آنا چاہتے اور اس کے نتیجے میں تارکینِ وطن کی ایک واضح کمی ہے۔
اسی سے منسلک ہے وزیر برائے سمندر پار پاکستانی افراد ذوالفقار بخاری اور پاکستان میں مقیم جاپانی سفیر کینینوری ماتسودہ کی حالیہ ملاقات۔ اس ملاقات کے دوران جاپانی سفیر نے وزیر کو بتایا کہ ان کے ملک میں تقریباً آٹھ لاکھ آئی ٹی انجینیئرز کی ضرورت ہے، جس پر زلفی بخاری نے 2021 میں آٹھ لاکھ پاکستانی آئی ٹی انجینئیرز جاپان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستانی افراد کے لیے جاپان میں کیا مواقع ہیں؟
اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پاکستان سے کام کی غرض سے بیرونِ ملک جانے والے لوگوں میں زیادہ تر تعداد مزدوروں کی رہی ہے۔ اس کے علاوہ مکینیک اور رنگ و روغن کا کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر کام کر رہی ہے۔
پاکستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے جس کے بعد اعداد و شمار کے مطابق جاپان جانے والوں کی تعداد کچھ خاص نہیں رہی۔
اگر پاکستان کے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز امپلائمنٹ کے 1971 سے لے کر نومبر 2020 تک کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں صرف 1884 پاکستانی جاپان کام کی غرض سے گئے ہیں۔
اگر مہارت کے حساب سے دیکھیں تو اس دوران صرف 8000 انجینیئرز بیرونِ ملک گئے ہے جبکہ 1971 سے 2020 کے دوران 45 لاکھ سے زیادہ مزدوروں نے خلیجی ممالک کا رخ کیا۔
جاپان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے 2019 تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جاپان میں 18 ہزار سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں، جبکہ اس کے برعکس صرف 1048 جاپانی شہری پاکستان میں رہتے ہیں۔
محمد زبیر 1989 میں ٹوکیو گئے تھے۔ تب اکا دکا پاکستانی جاپان کا انتخاب کرتے تھے۔
زبیر بتاتے ہیں، ’لیکن اب (جاپانی حکومت) کا منصوبہ یہ ہے کہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی ملازمین کو جاپان لایا جائے تاکہ وہ مختلف شعبوں میں کام کرسکیں۔ اداروں اور سکولوں میں انگریزی نہ ہونے کے برابر ہے جس نے بہت سے لوگوں کو جاپان آنے سے دور رکھا۔‘
زبیر کا کہنا ہے کہ جہاں سنہ 2000 کے بعد آنے والی گلوبل آئیزیشن یا عالمگیریت کی لہر کا دیگر ممالک نے فائدہ اٹھایا وہیں جاپان اس سے تھوڑا پیچھے رہا۔
موجودہ دور میں محمد زبیر سمیت اس وقت جاپان کی ایک کروڑ 26 لاکھ آبادی میں صرف 30 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مختلف ممالک سے کام کی غرض سے وہاں آئے ہیں۔
دوسری جانب جاپان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت نے پانچ سالوں کے دوران تقریباً تین لاکھ 45 ہزار ایسے لوگوں کو ویزے دیے ہیں جو کام کی غرض سے جاپان آنا چاہتے ہیں۔
اس سے جہاں ایک طرف ملک کی عمر رسیدہ آبادی کو آرام ملے گا، وہیں جاپان نئے لوگوں اور تارکینِ وطن کو اپنی طرف مائل کر پائے گا۔
’یہاں پر پاکستانی خواتین اور مردوں کے لیے زراعت، ماہی گیری اور نرسنگ بہترین شعبے ہیں جن کے لیے ڈیمانڈ بھی خاصی زیادہ ہے جبکہ آئی ٹی کے شعبے میں بھی جگہ بڑھ رہی ہے۔ باقی ممالک کی طرح ہمیں ان تبدیلیوں کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔‘
لیکن ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے باقاعدگی کے ساتھ جاپان یا دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط نہیں رکھے جاتے اور اب بھی حکومت کی خارجہ پالیسی سے لے کر ’مزدور ڈیپلومیسی‘ خلیجی ممالک کے گرد گھومتی ہے۔
کیا ان بھرتیوں میں خواتین کو ترجیح دی جائے گی؟
پاکستان میں دی نیسٹ نامی ٹیک انکیوبیٹر کی سربراہ جہاں آرا کہتی ہیں کہ ’پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کا 20 فیصد آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہے۔ ان میں سے بہت کم ہی بیرونِ ملک کام کرنے جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ان خواتین کی نمائندگی حکومتی اعداد و شمار میں نہیں ہوتی۔‘
اس کی مثال اس بات سے لی جاسکتی ہے کہ بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار میں صنف کے لحاظ کوئی تفصیلات نہیں۔ دوسری جانب، آئی ٹی کی وزارت کے پاس بھی اس حوالے سے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ زیادہ تر خواتین جو آئی ٹی سیکٹر میں موجود ہیں، انھیں اس بنیاد پر ترجیح نہیں دی جاتی کہ ان کو گھر والوں سے دوسرے ملک شفٹ ہونے کی اجازت نہیں ملے گی۔
جہاں آرا کے مطابق آئی ٹی انجینیئر کئی طرح کے ہوتے ہیں، سافٹ ویئر انجینیئرز، ٹیکنیکل اور مکینیکل انجینیئرز ،مواد لکھنے والے اور اس کو اکٹھا کرنے والے وغیرہ۔ ان کے خیال میں پاکستانی حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ جاپان کو آئی ٹی کے کن شعبوں سے لوگ چاہییں
مثال کے طور پر کراچی کی ایک آئی ٹی فرم میں کام کرنے والی ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں دبئی، سان فرانسسکو، اور دیگر کئی ممالک میں آنے والی آسامیوں پر انھیں نہیں جانے دیا گیا۔
’مجھے بتایا گیا کہ میرے گھر والے شاید اجازت نہ دیں تو اس لیے ان آسامیوں پر میری جگہ مردوں کو ترجیح دی گئی۔ مطلب مجھ سے پوچھا بھی جاسکتا تھا کہ آیا مجھے ایسا مسئلہ ہے بھی یا نہیں۔ مجھے موقع تو دیا جاسکتا تھا۔‘
اس وقت پاکستان سے خواتین کو بطور نرس، ڈاکٹر اور گھریلو ملازمہ بھیجا جاتا ہے، جبکہ جہاں آرا کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سے منسلک شعبوں میں خواتین کی موجودگی کے باوجود انھیں بیرونِ ممالک نوکری کرنے کے لیے ترجیح نہیں دی جاتی۔ ان کے مطابق ’اس لیے خواتین کے بارے میں پہلے سے اندازہ لگانے سے بہتر ہے کہ کسی ملک میں نوکری میں جانے کے حوالے ان سے پوچھا جائے۔‘
دوسری جانب جہاں آرا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ’آئی ٹی انجینیئر‘ کی مبہم اصطلاح کا استعمال سمجھ سے باہر ہے کیونکہ آئی ٹی ایک وسیع شعبہ ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہیں۔
’سافٹ ویئر انجینیئرز بھی ہوتے ہیں، ٹیکنیکل اور مکینیکل انجینیئرز ہوتے ہیں۔ مواد لکھنے والے اور اس کو اکٹھا کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ تو شاید حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان کو آئی ٹی کے شعبے سے کون سے لوگ چاہییں۔ اور آٹھ لاکھ کا یہ مطالبہ کیسے پورا کیا جائے گا؟‘
کیا پاکستان میں آئی ٹی کے اتنے لوگ موجود ہیں جو جاپان جانا چاہیں گے؟
بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق چیئرمین ہارون شریف نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 26 ہزار آئی ٹی کے طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 6000 ایسے ہیں جن کی قابلیت بین الاقوامی معیار پر ہوتی ہے یا ان کی مانگ ہوتی ہے۔ آئی ٹی کے زیادہ تر طلبا کو مینیجیریل پوزیشن ملتی ہے جس کا عام زبان میں مطلب کسی ادارے کی انتظامی باگ ڈور چلانا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسی جاپانی کمپنیاں بہت کم ہیں جو کسی پاکستانی آئی ٹی گریجوئیٹ کو اپنی کمپنی میں مینیجیریل پوزیشن میں رکھیں۔ اب چونکہ جاپان کی مانگ ہے تو پاکستان کی حکومت بھی ایسے لوگوں کو وہاں بھیجے گی، لیکن ایسا کرنے کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔
’اس وقت اگر خطے کا جائزہ لیں تو ایشیا مزدوری سے زیادہ علمی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے آئی ٹی گریجوئیٹس، جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، ان کے لیے جاپان جانا ایک بہت اچھا موقع ہوسکتا ہے۔کیونکہ اچھی تنخواہوں کے ساتھ انھیں اچھی پوزیشن بھی ملیں گی۔‘
لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے اس لیے نقصان کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ٹیکنیکل لوگ وافر مقدار میں موجود نہیں ہیں۔ تو ایسے طلبا کے جانے سے نئے لوگوں کے آنے تک وقت لگے گا۔ دوسری جانب، آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی جس طرف حکومت کو دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق سربراہ ہارون شریف کے مطابق پاکستان میں ہر سال 26 ہزار آئی ٹی کے طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 6000 ایسے ہیں جن کی قابلیت بین الاقوامی معیار پر ہوتی ہے یا ان کی مانگ ہوتی ہے
انھوں نے کہا کہ اسی طرح کی ڈیمانڈ جرمنی سے بھی آئی ہے کیونکہ کووڈ کی وجہ سے بہت سی کمپنیاں کم پیسوں میں مزدور اور انتظامیہ میں لوگ بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔
اس بارے میں محمد زبیر کہتے ہیں کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جب انڈیا کی اتنی بڑی آبادی موجود ہے تو پھر پاکستان سے مزدور یا آئی ٹی مینیجر بلانے کی کیا ضرورت ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ پاکستان میں آئی ٹی یا دیگر شعبوں سے منسلک مارکیٹ اتنی مضبوط نہیں ہے، اسی لیے یہاں سے لوگوں کو بلانا اور ان کو کم تنخواہوں پر رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا کی بڑی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے وہاں تنخواہیں ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہیں۔ اسی لیے اس تنخواہ میں دو سے تین لوگ کام کرسکتے ہیں۔‘
دوسری جانب نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس کی بیرونِ ملک بہت ڈیمانڈ ہے۔
راولپنڈی کے چاندنی چوک پر مزدوروں کو خلیجی اور دیگر ممالک بھیجنے والے ایک ایجنٹ راجہ عنایت اللہ نے بتایا کہ پاکستانی مزدوروں کو لے کر اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ مزدوری اور نرسنگ سے منسلک شعبوں سے آتی ہے۔ ’ہم خلیجی ممالک میں نرسیں تو بھیج دیتے ہیں لیکن وہاں سے اکثر ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ ترخواتین نرسوں کو فلپائن، ویتنام، لیبیا اور جنوبی کوریا بھیجتے ہیں۔ وہاں سے کبھی کوئی شکایت نہیں آتی۔‘
انھوں نے کہا کہ جہاں تک سوال جاپان بھیجنے کا ہے تو اس کے بارے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوتی۔ ’وہاں مزدور سے زیادہ بابو لوگ چاہییں۔ اور یہ کام آنا لائن ہوتا ہے۔‘
دوسری طرف محمد زبیر کہتے ’پاکستان کو اس وقت خلیجی ممالک سے نکل کر دیگر ممالک کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ عرب ممالک کو 30 سال بعد خیال آیا ہے کہ انھیں پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشیوں کے علاوہ اپنے لوگوں کو نوکریاں دینی ہیں۔ تو پھر پاکستان کو مخلتف ممالک کی طرف اپنے لوگ بھیجنے سے کون روک رہا ہے؟‘
‘یہاں ٹوکیو میں تین شعبوں کے لیے خواتین اور مرد دونوں کی ضرورت درکار ہے۔ زراعت، ماہی گیری، نرسنگ اور پھر آئی ٹی کا شعبہ۔ اب زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں حلال کھانا نہیں ملتا، زبان سمجھ نہیں آتی۔ لیکن پاکستانی عوام کے لیے جاپان رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ ہوسکتی ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *